کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: اگر حربی کافر مسلمانوں کے ملک میں بے امان چلا آئے تو اس کا مار ڈالنا درست ہے۔
حدیث نمبر: 3051
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعُمَيْسِ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَيْنٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَهُوَ فِي سَفَرٍ فَجَلَسَ عِنْدَ أَصْحَابِهِ يَتَحَدَّثُ ثُمَّ انْفَتَلَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اطْلُبُوهُ وَاقْتُلُوهُ فَقَتَلَهُ ، فَنَفَّلَهُ سَلَبَهُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابو عمیس عتبہ بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ ان سے ایاس بن سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے ‘ ان سے ان کے باپ ( سلمہ رضی اللہ عنہ ) نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سفر میں مشرکوں کا ایک جاسوس آیا ۔ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ ہوازن کے لیے تشریف لے جا رہے تھے ) وہ جاسوس صحابہ کی جماعت میں بیٹھا ‘ باتیں کیں ‘ پھر وہ واپس چلا گیا ‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے تلاش کر کے مار ڈالو ۔ چنانچہ اسے ( سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے ) قتل کر دیا ‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ہتھیار اور اوزار قتل کرنے والے کو دلوا دئیے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الجهاد والسير / حدیث: 3051
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة