حدیث نمبر: 3004
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ الشَّاعِرَ وَكَانَ لَا يُتَّهَمُ فِي حَدِيثِهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَهُ فِي الْجِهَادِ ، فَقَالَ : " أَحَيٌّ وَالِدَاكَ " ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ " .
مولانا داود راز
´ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے کہا ، ہم سے حبیب بن ابی ثابت نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے ابوالعباس ( شاعر ہونے کے ساتھ ) روایت حدیث میں بھی ثقہ اور قابل اعتماد تھے ، انہوں نے بیان کیا کہ` میں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے سنا ، آپ بیان کرتے تھے کہ ایک صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد میں شرکت کی اجازت چاہی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا ” کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں ؟ “ انہوں نے کہا کہ جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” پھر انہیں میں جہاد کرو ۔ ( یعنی ان کو خوش رکھنے کی کوشش کرو ) ۔ “