کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: سفر میں تیز چلنا۔
حدیث نمبر: Q2999
قَالَ : أَبُو حُمَيْدٍ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي مُتَعَجِّلٌ إِلَى الْمَدِينَةِ فَمَنْ أَرَادَ أَنْ يَتَعَجَّلَ مَعِي فَلْيُعَجِّلْ " .
مولانا داود راز
´ابوحمید نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” میں مدینہ جلدی پہنچنا چاہتا ہوں اس لیے اگر کوئی شخص میرے ساتھ جلدی چلنا چاہے تو چلے ۔“
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الجهاد والسير / حدیث: Q2999
حدیث نمبر: 2999
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، قَالَ : سُئِلَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، كَانَ يَحْيَى يَقُولُ وَأَنَا أَسْمَعُ ، فَسَقَطَ عَنِّي عَنْ مَسِيرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ، قَالَ : " فَكَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ ، وَالنَّصُّ فَوْقَ الْعَنَقِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ، ان سے ہشام نے بیان کیا ، انہیں ان کے والد نے خبر دی ، انہوں نے بیان کیا کہ` اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجۃ الوداع کے سفر کی رفتار کے متعلق پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس کس چال پر چلتے ، یحییٰ نے کہا عروہ نے یہ بھی کہا تھا ( کہ میں سن رہا تھا ) لیکن میں اس کا کہنا بھول گیا ۔ غرض اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذرا تیز چلتے جب فراخ جگہ پاتے تو سواری کو دوڑا دیتے ۔ «نص» اونٹ کی چال جو «عنق‏.‏» سے تیز ہوتی ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الجهاد والسير / حدیث: 2999
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3000
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي زَيْدٌ هُوَ ابْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بِطَرِيقِ مَكَّةَ فَبَلَغَهُ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ شِدَّةُ وَجَعٍ ، فَأَسْرَعَ السَّيْرَ حَتَّى إِذَا كَانَ بَعْدَ غُرُوبِ الشَّفَقِ ، ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعَتَمَةَ يَجْمَعُ بَيْنَهُمَا ، وَقَالَ : إِنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ ، وَجَمَعَ بَيْنَهُمَا " .
مولانا داود راز
´ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا ، کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی ، کہا کہ مجھے زید بن اسلم نے خبر دی ، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ` میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مکہ کے راستے میں تھا ، اتنے میں ان کو صفیہ بنت ابی عبید رضی اللہ عنہا ( ان کی بیوی ) کے متعلق سخت بیماری کی خبر ملی ۔ چنانچہ آپ نے تیز چلنا شروع کر دیا اور جب ( سورج غروب ہونے کے بعد ) شفق ڈوب گئی تو آپ سواری سے اترے اور مغرب اور عشاء کی نماز ملا کر پڑھی ، پھر کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیزی کے ساتھ سفر کرنا چاہتے تو مغرب میں تاخیر کر کے دونوں نمازیں ( مغرب اور عشاء ) ایک ساتھ ادا فرماتے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الجهاد والسير / حدیث: 3000
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3001
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنَ الْعَذَابِ يَمْنَعُ أَحَدَكُمْ نَوْمَهُ ، وَطَعَامَهُ ، وَشَرَابَهُ ، فَإِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ نَهْمَتَهُ ، فَلْيُعَجِّلْ إِلَى أَهْلِهِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں ابوبکر کے مولیٰ سمی نے ، انہیں ابوصالح نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” سفر کیا ہے گویا عذاب کا ایک ٹکڑا ہے ، آدمی کی نیند ، کھانے پینے سب میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے ۔ اس لیے جب مسافر اپنا کام پورا کر لے تو اسے جلدی گھر واپس آ جانا چاہئے ۔ “
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الجهاد والسير / حدیث: 3001
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة