حدیث نمبر: 2997
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : نَدَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ ، ثُمَّ نَدَبَهُمْ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ ، ثُمَّ نَدَبَهُمْ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ " ، قَالَ سُفْيَانُ : الْحَوَارِيُّ : النَّاصِرُ .
مولانا داود راز
´ہم سے حمیدی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے ، کہا کہ ہم سے محمد بن منکدر نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا ، وہ بیان کرتے تھے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ایک کام کے لیے ) غزوہ خندق کے موقع پر صحابہ کو پکارا ، تو زبیر رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے کہا کہ میں حاضر ہوں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو پکارا ، اور اس مرتبہ بھی زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے کو پیش کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پکارا اور پھر زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو پیش کیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخر فرمایا کہ ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور میرے حواری زبیر ہیں ۔ سفیان نے کہا کہ حواری کے معنی معاون ، مددگار کے ہیں ( یا وفادار محرم راز کو حواری کہا گیا ہے ) ۔
حدیث نمبر: 2998
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي الْوَحْدَةِ ، مَا أَعْلَمُ مَا سَارَ رَاكِبٌ بِلَيْلٍ وَحْدَهُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ، کہا ہم سے عاصم بن محمد نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا ، اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ ( دوسری سند ) ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے عاصم بن محمد بن زید بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جتنا میں جانتا ہوں ، اگر لوگوں کو بھی اکیلے سفر ( کی برائیوں ) کے متعلق اتنا علم ہوتا تو کوئی سوار رات میں اکیلا سفر نہ کرتا ۔ “