کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: امام (بادشاہ اسلام) کے ساتھ ہو کر لڑنا اور اس کے زیر سایہ اپنا (دشمن کے حملوں سے) بچاؤ کرنا۔
حدیث نمبر: 2956
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ أَنَّ الْأَعْرَجَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ " .
مولانا داود راز
´ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، ہم کو شعیب نے خبر دی ، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا ، ان سے اعرج نے بیان کیا اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ` ” ہم لوگ گو دنیا میں سب سے پیچھے آئے لیکن ( آخرت میں ) جنت میں سب سے آگے ہوں گے ۔ “
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الجهاد والسير / حدیث: 2956
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2957
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ " مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ ، وَمَنْ يُطِعِ الْأَمِيرَ فَقَدْ أَطَاعَنِي ، وَمَنْ يَعْصِ الْأَمِيرَ فَقَدْ عَصَانِي وَإِنَّمَا الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَّقَى بِهِ ، فَإِنْ أَمَرَ بِتَقْوَى اللَّهِ وَعَدَلَ ، فَإِنَّ لَهُ بِذَلِكَ أَجْرًا ، وَإِنْ قَالَ بِغَيْرِهِ ، فَإِنَّ عَلَيْهِ مِنْهُ " .
مولانا داود راز
´اور اسی سند کے ساتھ روایت ہے کہ` جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی ، اس نے میری نافرمانی کی ۔ امام کی مثال ڈھال جیسی ہے کہ اس کے پیچھے رہ کر اس کی آڑ میں ( یعنی اس کے ساتھ ہو کر ) جنگ کی جاتی ہے ۔ اور اسی کے ذریعہ ( دشمن کے حملہ سے ) بچا جاتا ہے ، پس اگر امام تمہیں اللہ سے ڈرتے رہنے کا حکم دے اور انصاف کرے اس کا ثواب اسے ملے گا ، لیکن اگر بے انصافی کرے گا تو اس کا وبال اس پر ہو گا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الجهاد والسير / حدیث: 2957
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة