حدیث نمبر: 2906
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : عَمْرٌو حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا " دَخَلَ عَلَيّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ تُغَنِّيَانِ بِغِنَاءِ بُعَاثَ فَاضْطَجَعَ عَلَى الْفِرَاشِ وَحَوَّلَ وَجْهَهُ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فَانْتَهَرَنِي ، وَقَالَ : مِزْمَارَةُ الشَّيْطَانِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " دَعْهُمَا فَلَمَّا غَفَلَ غَمَزْتُهُمَا فَخَرَجَتَا .
مولانا داود راز
´ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا کہ عمرو نے کہا کہ مجھ سے ابوالاسود نے بیان کیا ، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے تو دو لڑکیاں میرے پاس جنگ بعاث کے گیت گا رہی تھیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بستر پر لیٹ گئے اور چہرہ مبارک دوسری طرف کر لیا اس کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ آ گئے اور آپ نے مجھے ڈانٹا کہ یہ شیطانی گانا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ! لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ انہیں گانے دو ، پھر جب ابوبکر رضی اللہ عنہ دوسری طرف متوجہ ہو گئے تو میں نے ان لڑکیوں کو اشارہ کیا اور وہ چلی گئیں ۔
حدیث نمبر: 2907
قَالَتْ : وَكَانَ يَوْمُ عِيدٍ يَلْعَبُ السُّودَانُ بِالدَّرَقِ وَالْحِرَابِ ، فَإِمَّا سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِمَّا قَالَ : تَشْتَهِينَ تَنْظُرِينَ ، فَقَالَتْ : نَعَمْ فَأَقَامَنِي وَرَاءَهُ خَدِّي عَلَى خَدِّهِ ، وَيَقُولُ : دُونَكُمْ بَنِي أَرْفِدَةَ حَتَّى إِذَا مَلِلْتُ ، قَالَ : حَسْبُكِ ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَاذْهَبِي قَالَ : أَبُو عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : أَحْمَدُ ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ فَلَمَّا غَفَلَ .
مولانا داود راز
´عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` عید کے دن سوڈان کے کچھ صحابہ ڈھال اور حراب کا کھیل دکھا رہے تھے ، اب یا میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی فرمایا کہ تم بھی دیکھنا چاہتی ہو ؟ میں نے کہا جی ہاں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پیچھے کھڑا کر لیا ، میرا چہرہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ پر تھا ( اس طرح میں پیچھے پردے سے کھیل کو بخوبی دیکھ سکتی تھی ) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے : ” خوب بنوارفدہ ! “ جب میں تھک گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بس ؟ “ میں نے کہا جی ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو پھر جاؤ ۔ “ احمد نے بیان کیا اور ان سے ابن وہب نے ( ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آنے کے بعد دوسری طرف متوجہ ہو جانے کے لیے لفظ «عمل» کے بجائے ) «فلما غفل.» نقل کیا ہے ۔ یعنی جب وہ ذرا غافل ہو گئے ۔