کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: تیر اندازی کی ترغیب دلانے کے بیان میں۔
حدیث نمبر: Q2899
وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ وَمِنْ رِبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ}.
مولانا داود راز
‏‏‏‏ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ( سورۃ الانفال میں ) «وأعدوا لهم ما استطعتم من قوة ومن رباط الخيل ترهبون به عدو الله وعدوكم» ” اور ان ( کافروں ) کے مقابلے کے لیے جس قدر بھی تم سے ہو سکے سامان تیار رکھو ، قوت سے اور پلے ہوئے گھوڑوں سے ، جس کے ذریعہ سے تم اپنا رعب رکھتے ہو اللہ کے دشمنوں اور اپنے دشمنوں پر ۔“
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الجهاد والسير / حدیث: Q2899
حدیث نمبر: 2899
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَلَمَةَ بْنَ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَفَرٍ مِنْ أَسْلَمَ يَنْتَضِلُونَ ، فَقَالَ : النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ارْمُوا بَنِي إِسْمَاعِيلَ فَإِنَّ أَبَاكُمْ كَانَ رَامِيًا ارْمُوا ، وَأَنَا مَعَ بَنِي فُلَانٍ ، قَالَ : فَأَمْسَكَ أَحَدُ الْفَرِيقَيْنِ بِأَيْدِيهِمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا لَكُمْ لَا تَرْمُونَ ، قَالُوا : كَيْفَ نَرْمِي وَأَنْتَ مَعَهُمْ ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ارْمُوا فَأَنَا مَعَكُمْ كُلِّكُمْ " .
مولانا داود راز
´ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا ، ان سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا ، انہوں نے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قبیلہ بنو اسلم کے چند لوگوں پر گزر ہوا جو تیر اندازی کی مشق کر رہے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسماعیل علیہ السلام کے بیٹو ! تیر اندازی کرو کہ تمہارے بزرگ دادا اسماعیل علیہ السلام بھی تیرانداز تھے ۔ ہاں ! تیر اندازی کرو ، میں بنی فلاں ( ابن الاورع رضی اللہ عنہ ) کی طرف ہوں ۔ بیان کیا ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک فریق کے ساتھ ہو گئے تو ( مقابلے میں حصہ لینے والے ) دوسرے ایک فریق نے ہاتھ روک لیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا بات پیش آئی ، تم لوگوں نے تیر اندازی بند کیوں کر دی ؟ دوسرے فریق نے عرض کیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک فریق کے ساتھ ہو گئے تو بھلا ہم کس طرح مقابلہ کر سکتے ہیں ۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا تیر اندازی جاری رکھو میں تم سب کے ساتھ ہوں ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الجهاد والسير / حدیث: 2899
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2900
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْغَسِيلِ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَوْمَ بَدْرٍ حِينَ صَفَفَنَا لِقُرَيْشٍ وَصَفُّوا لَنَا إِذَا أَكْثَبُوكُمْ فَعَلَيْكُمْ بِالنَّبْلِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن غسیل نے ، ان سے حمزہ بن ابی اسید نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کی لڑائی کے موقع پر جب ہم قریش کے مقابلہ میں صف باندھے ہوئے کھڑے ہو گئے تھے اور وہ ہمارے مقابلہ میں تیار تھے ، فرمایا کہ اگر ( حملہ کرتے ہوئے ) قریش تمہارے قریب آ جائیں تو تم لوگ تیر اندازی شروع کر دینا تاکہ وہ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوں ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الجهاد والسير / حدیث: 2900
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة