کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: مکاتب کا بیان اور جو شرطیں ناجائز اور کتاب اللہ کے مخالف ہیں ان کا بیان۔
حدیث نمبر: Q2735
وَقَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي الْمُكَاتَبِ : شُرُوطُهُمْ بَيْنَهُمْ ، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ ، أَوْ عُمَرُ : كُلُّ شَرْطٍ خَالَفَ كِتَابَ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ ، وَإِنِ اشْتَرَطَ مِائَةَ شَرْطٍ ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : وَيُقَالُ عَنْ كِلَيْهِمَا ، عَنْ عُمَرَ ، وَابْنِ عُمَرَ .
مولانا داود راز
´اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے` مکاتب کے بارے میں کہا کہ ان کی ( یعنی مکاتب اور اس کے مالک کی ) جو شرطیں ہوں وہ معتبر ہوں گی اور ابن عمر یا عمر رضی اللہ عنہ نے ( راوی کو شبہ ہے ) کہا کہ ہر وہ شرط جو کتاب اللہ کے مخالف ہو وہ باطل ہے خواہ ایسی سو شرطیں بھی لگائی جائیں ۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ بیان کیا جاتا ہے کہ عمر اور ابن عمر رضی اللہ عنہما دونوں سے یہ قول مروی ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الشروط / حدیث: Q2735
حدیث نمبر: 2735
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : أَتَتْهَا بَرِيرَةُ تَسْأَلُهَا فِي كِتَابَتِهَا ، فَقَالَتْ : إِنْ شِئْتِ أَعْطَيْتُ أَهْلَكِ وَيَكُونُ الْوَلَاءُ لِي ، فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَّرْتُهُ ذَلِكَ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ابْتَاعِيهَا فَأَعْتِقِيهَا ، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ : " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ ، مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَلَيْسَ لَهُ وَإِنِ اشْتَرَطَ مِائَةَ شَرْطٍ " .
مولانا داود راز
´ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ۔ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ یحییٰ بن سعید انصاری سے ‘ ان سے عمرہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے مکاتبت کے سلسلے میں ان سے مدد مانگنے آئیں تو انہوں نے کہا کہ اگر تم چاہو تو تمہارے مالکوں کو ( پوری قیمت ) دے دوں اور تمہاری ولاء میرے ہو گی ۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے اس کا ذکر کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں تو خرید لے اور آزاد کر دے ۔ ولاء تو بہرحال اسی کی ہو گی جو آزاد کر دے ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو ایسی شرطیں لگاتے ہیں جن کا کوئی پتہ ( دلیل ، سند ) کتاب اللہ میں نہیں ہے ‘ جس نے بھی کوئی ایسی شرط لگائی جس کا پتہ ( دلیل ، سند ) کتاب اللہ میں نہ ہو تو خواہ ایسی سو شرطیں لگا لے ان سے کچھ فائدہ نہ اٹھائے گا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الشروط / حدیث: 2735
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»