حدیث نمبر: Q2685
وَقَالَ الشَّعْبِيُّ : لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ أَهْلِ الْمِلَلِ بَعْضِهِمْ عَلَى بَعْضٍ ، لِقَوْلِهِ تَعَالَى : فَأَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ سورة المائدة آية 14 ، وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَا تُصَدِّقُوا أَهْلَ الْكِتَابِ وَلَا تُكَذِّبُوهُمْ ، وَقُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ سورة البقرة آية 136 الْآيَةَ .
مولانا داود راز
´اور شعبی نے کہا کہ` دوسرے دین والوں کی گواہی ایک دوسرے کے خلاف لینی جائز نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی وجہ سے کہ «فأغرينا بينهم العداوة والبغضاء» ” ہم نے ان میں باہم دشمنی اور بغض کو ہوا دے دی ہے ۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا کہ اہل کتاب کی ( ان مذہبی روایات میں ) نہ تصدیق کرو اور نہ تکذیب بلکہ یہ کہہ لیا کرو کہ اللہ پر اور جو کچھ اس نے نازل کیا سب پر ہم ایمان لائے ۔
حدیث نمبر: 2685
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَن عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ ، كَيْفَ تَسْأَلُونَ أَهْلَ الْكِتَابِ ، وَكِتَابُكُمُ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْدَثُ الْأَخْبَارِ بِاللَّهِ تَقْرَءُونَهُ لَمْ يُشَبْ ، وَقَدْ حَدَّثَكُمُ اللَّهُ أَنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ بَدَّلُوا مَا كَتَبَ اللَّهُ ، وَغَيَّرُوا بِأَيْدِيهِمُ الْكِتَابَ ، فَقَالُوا : هُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ ، لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا ، أَفَلَا يَنْهَاكُمْ مَا جَاءَكُمْ مِنَ الْعِلْمِ عَنْ مُسَاءَلَتِهِمْ ، وَلَا وَاللَّهِ مَا رَأَيْنَا مِنْهُمْ رَجُلًا قَطُّ يَسْأَلُكُمْ عَنِ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَيْكُمْ " .
مولانا داود راز
´ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ، یونس سے ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے کہ` ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ، اے مسلمانو ! اہل کتاب سے کیوں سوالات کرتے ہو ۔ حالانکہ تمہاری کتاب جو تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی ہے ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے سب سے بعد میں نازل ہوئی ہے ۔ تم اسے پڑھتے ہو اور اس میں کسی قسم کی آمیزش بھی نہیں ہوئی ہے ۔ اللہ تعالیٰ تو تمہیں پہلے ہی بتا چکا ہے کہ اہل کتاب نے اس کتاب کو بدل دیا ، جو اللہ تعالیٰ نے انہیں دی تھی اور خود ہی اس میں تغیر کر دیا اور پھر کہنے لگے یہ کتاب اللہ کی طرف سے ہے ۔ ان کا مقصد اس سے صرف یہ تھا کہ اس طرح تھوڑی پونجی ( دنیا کی ) حاصل کر سکیں پس کیا جو علم ( قرآن ) تمہارے پاس آیا ہے وہ تم کو ان ( اہل کتاب سے پوچھنے کو نہیں روکتا ۔ اللہ کی قسم ! ہم نے ان کے کسی آدمی کو کبھی نہیں دیکھا کہ وہ ان آیات کے متعلق تم سے پوچھتا ہو جو تم پر ( تمہارے نبی کے ذریعہ ) نازل کی گئی ہیں ۔