مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ آل عمران میں) فرمان کہ ”جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے ذریعہ تھوڑی قیمت حاصل کرتے ہیں“۔
حدیث نمبر: 2675
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ أَبُو إِسْمَاعِيلَ السَّكْسَكِيُّ ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَىرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : " أَقَامَ رَجُلٌ سِلْعَتَهُ ، فَحَلَفَ بِاللَّهِ لَقَدْ أَعْطَى بِهَا مَا لَمْ يُعْطِهَا ، فَنَزَلَتْ : إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77 " . وَقَالَ ابْنُ أَبِي أَوْفَى النَّاجِشُ : آكِلُ رِبًا خَائِنٌ .
مولانا داود راز
´مجھ سے اسحاق نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو یزید بن ہارون نے خبر دی ، انہیں عوام نے خبر دی ، کہا کہ مجھ سے ابراہیم ابواسماعیل سکسکی نے بیان کیا اور انہوں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ` ایک شخص نے اپنا سامان دکھا کر اللہ کی قسم کھائی کہ اسے اس سامان کا اتنا روپیہ مل رہا تھا ، حالانکہ اتنا نہیں مل رہا تھا ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا‏» ” جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے ذریعہ تھوڑی قیمت حاصل کرتے ہیں ۔“ ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ گاہکوں کو پھانسنے کے لیے قیمت بڑھانے والا سود خور کی طرح خائن ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الشهادات / حدیث: 2675
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 2676
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ كَاذِبًا لِيَقْتَطِعَ مَالَ رَجُلٍ أَوْ قَالَ أَخِيهِ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ " ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِيقَ ذَلِكَ فِي الْقُرْآنِ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77 . فَلَقِيَنِي الْأَشْعَثُ ، فَقَالَ : مَا حَدَّثَكُمْ عَبْدُ اللَّهِ الْيَوْمَ قُلْتُ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : فِيَّ أُنْزِلَتْ .
مولانا داود راز
´ہم سے بشر بن خالد نے بیان کیا ، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا شعبہ سے ، ان سے سلیمان نے ، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جھوٹی قسم اس لیے کھائے کہ اس کے ذریعہ کسی کا مال لے سکے ، یا انہوں نے یوں بیان کیا کہ اپنے بھائی کا مال لے سکے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غضب ناک ہو گا ۔ اللہ تعالیٰ نے اسی کی تصدیق میں یہ آیت نازل فرمائی کہ «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا‏» ” جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی ( جھوٹی ) قسموں کے ذریعہ معمولی پونجی حاصل کرتے ہیں ۔“ الخ پھر مجھ سے اشعث رضی اللہ عنہ کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے پوچھا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے آج تم لوگوں سے کیا حدیث بیان کی تھی ۔ میں نے ان سے بیان کر دی تو آپ نے فرمایا کہ یہ آیت میرے ہی واقعے کے سلسلے میں نازل ہوئی تھی ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الشهادات / حدیث: 2676
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 2677
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ كَاذِبًا لِيَقْتَطِعَ مَالَ رَجُلٍ أَوْ قَالَ أَخِيهِ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ " ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِيقَ ذَلِكَ فِي الْقُرْآنِ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77 . فَلَقِيَنِي الْأَشْعَثُ ، فَقَالَ : مَا حَدَّثَكُمْ عَبْدُ اللَّهِ الْيَوْمَ قُلْتُ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : فِيَّ أُنْزِلَتْ .
مولانا داود راز
´ہم سے بشر بن خالد نے بیان کیا ، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا شعبہ سے ، ان سے سلیمان نے ، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جھوٹی قسم اس لیے کھائے کہ اس کے ذریعہ کسی کا مال لے سکے ، یا انہوں نے یوں بیان کیا کہ اپنے بھائی کا مال لے سکے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غضب ناک ہو گا ۔ اللہ تعالیٰ نے اسی کی تصدیق میں یہ آیت نازل فرمائی کہ «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا‏» ” جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی ( جھوٹی ) قسموں کے ذریعہ معمولی پونجی حاصل کرتے ہیں ۔“ الخ پھر مجھ سے اشعث رضی اللہ عنہ کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے پوچھا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے آج تم لوگوں سے کیا حدیث بیان کی تھی ۔ میں نے ان سے بیان کر دی تو آپ نے فرمایا کہ یہ آیت میرے ہی واقعے کے سلسلے میں نازل ہوئی تھی ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الشهادات / حدیث: 2677
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔