مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: مدعیٰ علیہ پر جہاں قسم کھانے کا حکم دیا جائے وہیں قسم کھا لے یہ ضروری نہیں کہ کسی دوسری جگہ پر جا کر قسم کھائے۔
حدیث نمبر: Q2673
قَضَى مَرْوَانُ بِالْيَمِينِ عَلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ : أَحْلِفُ لَهُ مَكَانِي ، فَجَعَلَ زَيْدٌ يَحْلِفُ ، وَأَبَى أَنْ يَحْلِفَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَجَعَلَ مَرْوَانُ يَعْجَبُ مِنْهُ ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : شَاهِدَاكَ أَوْ يَمِينُهُ ، فَلَمْ يَخُصَّ مَكَانًا دُونَ مَكَانٍ .
مولانا داود راز
´اور مروان بن حکم نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے` ایک مقدمے کا فیصلہ منبر پر بیٹھے ہوئے کیا اور ( مدعیٰ علیہ ہونے کی وجہ سے ) ان سے کہا کہ آپ میری جگہ آ کر قسم کھائیں ۔ لیکن زید رضی اللہ عنہ اپنی ہی جگہ سے قسم کھانے لگے اور منبر کے پاس جا کر قسم کھانے سے انکار کر دیا ۔ مروان کو اس پر تعجب ہوا ۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اشعث بن قیس سے ) فرمایا تھا کہ دو گواہ لا ورنہ اس ( یہودی ) کی قسم پر فیصلہ ہو گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی خاص جگہ کی تخصیص نہیں فرمائی ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الشهادات / حدیث: Q2673
حدیث نمبر: 2673
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالًا لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے موسیٰ بن اسمٰعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالاحد نے بیان کیا اعمش سے ، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جو شخص قسم اس لیے کھاتا ہے تاکہ اس کے ذریعہ کسی کا مال ( ناجائز طور پر ) ہضم کر جائے تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ پاک اس پر سخت غضبناک ہو گا ۔ “
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الشهادات / حدیث: 2673
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔