مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: مدعیٰ علیہ کو قسم دلانے سے پہلے حاکم کا مدعی سے یہ پوچھنا کیا تیرے پاس گواہ ہیں؟
حدیث نمبر: 2666
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ " . قَالَ : فَقَالَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ فِيَّ : وَاللَّهِ كَانَ ذَلِكَ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنْ الْيَهُودِ أَرْضٌ ، فَجَحَدَنِي ، فَقَدَّمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَكَ بَيِّنَةٌ ؟ قَالَ : قُلْتُ لَا ، قَالَ : فَقَالَ لِلْيَهُودِيِّ : احْلِفْ ، قَالَ : قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِذًا يَحْلِفَ وَيَذْهَبَ بِمَالِي ، قَالَ : فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد نے بیان کیا کہا ہم کو ابومعاویہ نے خبر دی اور انہیں اعمش نے انہیں شقیق نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جس شخص نے کوئی ایسی قسم کھائی جس میں وہ جھوٹا تھا ، کسی مسلمان کا مال چھیننے کے لیے ، تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس طرح ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر غضبناک ہو گا ۔“ انہوں نے بیان کیا کہ اس پر اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ گواہ ہے ، یہ حدیث میرے ہی متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی ۔ میرا ایک یہودی سے ایک زمین کا جھگڑا تھا ۔ یہودی میرے حق کا انکار کر رہا تھا ۔ اس لیے میں اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ( کیونکہ میں مدعی تھا ) کہ گواہی پیش کرنا تمہارے ہی ذمہ ہے ۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا گواہ تو میرے پاس کوئی بھی نہیں ۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی سے فرمایا ” پھر تم قسم کھاؤ ۔ “ اشعث رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں بول پڑا ، یا رسول اللہ ! پھر تو یہ قسم کھا لے گا اور میرا مال ہضم کر جائے گا ۔ انہوں نے بیان کیا کہ اسی واقعہ پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا» ” جو لوگ اللہ کے عہد اور قسموں سے معمولی پونجی خریدتے ہیں آخر آیت تک ۔ “
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الشهادات / حدیث: 2666
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 2667
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ " . قَالَ : فَقَالَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ فِيَّ : وَاللَّهِ كَانَ ذَلِكَ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنْ الْيَهُودِ أَرْضٌ ، فَجَحَدَنِي ، فَقَدَّمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَكَ بَيِّنَةٌ ؟ قَالَ : قُلْتُ لَا ، قَالَ : فَقَالَ لِلْيَهُودِيِّ : احْلِفْ ، قَالَ : قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِذًا يَحْلِفَ وَيَذْهَبَ بِمَالِي ، قَالَ : فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد نے بیان کیا کہا ہم کو ابومعاویہ نے خبر دی اور انہیں اعمش نے انہیں شقیق نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جس شخص نے کوئی ایسی قسم کھائی جس میں وہ جھوٹا تھا ، کسی مسلمان کا مال چھیننے کے لیے ، تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس طرح ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر غضبناک ہو گا ۔“ انہوں نے بیان کیا کہ اس پر اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ گواہ ہے ، یہ حدیث میرے ہی متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی ۔ میرا ایک یہودی سے ایک زمین کا جھگڑا تھا ۔ یہودی میرے حق کا انکار کر رہا تھا ۔ اس لیے میں اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ( کیونکہ میں مدعی تھا ) کہ گواہی پیش کرنا تمہارے ہی ذمہ ہے ۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا گواہ تو میرے پاس کوئی بھی نہیں ۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی سے فرمایا ” پھر تم قسم کھاؤ ۔ “ اشعث رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں بول پڑا ، یا رسول اللہ ! پھر تو یہ قسم کھا لے گا اور میرا مال ہضم کر جائے گا ۔ انہوں نے بیان کیا کہ اسی واقعہ پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا» ” جو لوگ اللہ کے عہد اور قسموں سے معمولی پونجی خریدتے ہیں آخر آیت تک ۔ “
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الشهادات / حدیث: 2667
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔