مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: بچوں کا بالغ ہونا اور ان کی شہادت کا بیان۔
حدیث نمبر: Q2664
وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : وَإِذَا بَلَغَ الأَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْيَسْتَأْذِنُوا سورة النور آية 59 ، وَقَالَ مُغِيرَةُ : احْتَلَمْتُ وَأَنَا ابْنُ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً ، وَبُلُوغُ النِّسَاءِ فِي الْحَيْضِ لِقَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِلَى قَوْلِهِ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنّ سورة الطلاق آية 4 ، وَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ : أَدْرَكْتُ جَارَةً لَنَا جَدَّةً بِنْتَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ سَنَةً .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ جب تمہارے بچے احتلام کی عمر کو پہنچ جائیں تو پھر انہیں ( گھروں میں داخل ہوتے وقت ) اجازت لینی چاہئے ۔ مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں احتلام کی عمر کو پہنچا تو میں بارہ سال کا تھا اور لڑکیوں کا بلوغ حیض سے معلوم ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی وجہ سے کہ «وإذا بلغ الأطفال منكم الحلم فليستأذنوا‏» ” عورتیں جو حیض سے مایوس ہو چکی ہیں “ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد «أن يضعن حملهن‏» تک ۔ حسن بن صالح نے کہا کہ میں نے اپنی ایک پڑوسن کو دیکھا کہ وہ اکیس سال کی عمر میں دادی بن چکی تھیں ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الشهادات / حدیث: Q2664
حدیث نمبر: 2664
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَضَهُ يَوْمَ أُحُدٍ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً ، فَلَمْ يُجِزْنِي ، ثُمَّ عَرَضَنِي يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً ، فَأَجَازَنِي ، قَالَ نَافِعٌ : فَقَدِمْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ خَلِيفَةٌ ، فَحَدَّثْتُهُ هَذَا الْحَدِيثَ ، فَقَالَ : إِنَّ هَذَا لَحَدٌّ بَيْنَ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ ، وَكَتَبَ إِلَى عُمَّالِهِ أَنْ يَفْرِضُوا لِمَنْ بَلَغَ خَمْسَ عَشْرَةَ " .
مولانا داود راز
´ہم سے عبداللہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عبیداللہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے نافع نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` احد کی لڑائی کے موقع پر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ( جنگ پر جانے کے لیے ) پیش ہوئے تو انہیں اجازت نہیں ملی ، اس وقت ان کی عمر چودہ سال تھی ۔ پھر غزوہ خندق کے موقع پر پیش ہوئے تو اجازت مل گئی ۔ اس وقت ان کی عمر پندرہ سال تھی ۔ نافع نے بیان کیا کہ جب میں عمر بن عبدالعزیز کے یہاں ان کی خلافت کے زمانے میں گیا تو میں نے ان سے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے فرمایا کہ چھوٹے اور بڑے کے درمیان ( پندرہ سال ہی کی ) حد ہے ۔ پھر انہوں نے اپنے حاکموں کو لکھا کہ جس بچے کی عمر پندرہ سال کی ہو جائے ( اس کا فوجی وظیفہ ) بیت المال سے مقرر کر دیں ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الشهادات / حدیث: 2664
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 2665
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " غُسْلُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ " .
مولانا داود راز
´ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کا ، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے صفوان بن سلیم نے بیان کیا ، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ہر بالغ پر جمعہ کے دن غسل واجب ہے ۔ “
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الشهادات / حدیث: 2665
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔