کتب حدیث › صحيح البخاري › ابواب ❮کتاب:صحيح البخاريصحيح مسلمسنن ابي داودسنن ابن ماجهسنن نسائيسنن ترمذيصحيح ابن خزيمهصحیح ابن حبانمسند احمدموطا امام مالك رواية يحييٰموطا امام مالك رواية ابن القاسمسنن دارميسنن الدارقطنيسنن سعید بن منصورمصنف ابن ابي شيبهالمنتقى ابن الجارودالادب المفردصحيح الادب المفردمشكوة المصابيحبلوغ المراماللؤلؤ والمرجانشمائل ترمذيصحيفه همام بن منبهسلسله احاديث صحيحهمجموعه ضعيف احاديثمختصر صحيح بخاريمختصر صحيح مسلممختصر حصن المسلممسند الحميديمسند اسحاق بن راهويهمسند عبدالله بن مباركمسند الشهابمسند عبدالرحمن بن عوفمسند عبدالله بن عمرمسند عمر بن عبد العزيزالفتح الربانیمعجم صغير للطبرانيحدیث نمبر:جائیں❯ فہرستِ ابواب بَابُ مَا جَاءَ فِي الْبَيِّنَةِ عَلَى الْمُدَّعِي: باب: گواہیوں کا پیش کرنا مدعی کے ذمہ ہے۔ حدیث 2637–2637 بَابُ إِذَا عَدَّلَ رَجُلٌ أَحَدًا فَقَالَ لاَ نَعْلَمُ إِلاَّ خَيْرًا. أَوْ قَالَ مَا عَلِمْتُ إِلاَّ خَيْرًا: باب: اگر ایک شخص دوسرے کے نیک عادات و عمدہ خصائل بیان کرنے کے لیے اگر صرف یہ کہے کہ ہم تو اس کے متعلق اچھا ہی جانتے ہیں یا یہ کہے کہ میں اس کے متعلق صرف اچھی بات جانتا ہوں۔ حدیث 2637–2637 بَابُ شَهَادَةِ الْمُخْتَبِي: باب: جو اپنے تئیں چھپا کر گواہ بنا ہو اس کی گواہی درست ہے۔ حدیث 2638–2639 بَابُ إِذَا شَهِدَ شَاهِدٌ أَوْ شُهُودٌ بِشَيْءٍ فَقَالَ آخَرُونَ مَا عَلِمْنَا ذَلِكَ. يُحْكَمُ بِقَوْلِ مَنْ شَهِدَ: باب: جب ایک یا کئی گواہ کسی معاملے کے اثبات میں گواہی دیں اور دوسرے لوگ یہ کہہ دیں کہ ہمیں اس سلسلے میں کچھ معلوم نہیں تو فیصلہ اسی کے قول کے مطابق ہو گا جس نے اثبات میں گواہی دی ہے۔ حدیث 2640–2640 بَابُ الشُّهَدَاءِ الْعُدُولِ: باب: گواہ عادل معتبر ہونے ضروری ہیں۔ حدیث 2641–2641 بَابُ تَعْدِيلِ كَمْ يَجُوزُ؟ باب: کسی گواہ کو عادل ثابت کرنے کے لیے کتنے آدمیوں کی گواہی ضروری ہے؟ حدیث 2642–2643 بَابُ الشَّهَادَةِ عَلَى الأَنْسَابِ وَالرَّضَاعِ الْمُسْتَفِيضِ وَالْمَوْتِ الْقَدِيمِ: باب: نسب اور رضاعت میں جو مشہور ہو، اسی طرح پرانی موت پر گواہی کا بیان۔ حدیث 2644–2647 بَابُ شَهَادَةِ الْقَاذِفِ وَالسَّارِقِ وَالزَّانِي: باب: زنا کی تہمت لگانے والے اور چور اور زانی کی گواہی کا بیان۔ حدیث 2648–2649 بَابُ لاَ يَشْهَدُ عَلَى شَهَادَةِ جَوْرٍ إِذَا أُشْهِدَ: باب: اگر ظلم کی بات پر لوگ گواہ بننا چاہیں تو گواہ نہ بنے۔ حدیث 2650–2652 بَابُ مَا قِيلَ فِي شَهَادَةِ الزُّورِ: باب: جھوٹی گواہی کے متعلق کیا حکم ہے؟ حدیث 2653–2654 بَابُ شَهَادَةِ الأَعْمَى، وَأَمْرِهِ وَنِكَاحِهِ وَإِنْكَاحِهِ وَمُبَايَعَتِهِ وَقَبُولِهِ فِي التَّأْذِينِ وَغَيْرِهِ، وَمَا يُعْرَفُ بِالأَصْوَاتِ: باب: اندھے آدمی کی گواہی اور اس کے معاملہ کا بیان اور اس کا اپنا نکاح کرنا یا کسی اور کا نکاح کروانا یا اس کی خرید و فروخت۔ حدیث 2655–2657 بَابُ شَهَادَةِ النِّسَاءِ: باب: عورتوں کی گواہی کا بیان۔ حدیث 2658–2658 بَابُ شَهَادَةِ الإِمَاءِ وَالْعَبِيدِ: باب: باندیوں اور غلاموں کی گواہی کا بیان۔ حدیث 2659–2659 بَابُ شَهَادَةِ الْمُرْضِعَةِ: باب: دودھ کی ماں کی گواہی کا بیان۔ حدیث 2660–2660 بَابُ تَعْدِيلِ النِّسَاءِ بَعْضِهِنَّ بَعْضًا: باب: عورتوں کا آپس میں ایک دوسرے کی اچھی عادتوں کے بارے میں گواہی دینا۔ حدیث 2661–2661 بَابُ إِذَا زَكَّى رَجُلٌ رَجُلاً كَفَاهُ: باب: جب ایک مرد دوسرے مرد کو اچھا کہے تو یہ کافی ہے۔ حدیث 2662–2662 بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ الإِطْنَابِ فِي الْمَدْحِ وَلْيَقُلْ مَا يَعْلَمُ: باب: کسی کی تعریف میں مبالغہ کرنا مکروہ ہے جو جانتا ہو بس وہی کہے۔ حدیث 2663–2663 بَابُ بُلُوغِ الصِّبْيَانِ وَشَهَادَتِهِمْ: باب: بچوں کا بالغ ہونا اور ان کی شہادت کا بیان۔ حدیث 2664–2665 بَابُ سُؤَالِ الْحَاكِمِ الْمُدَّعِيَ هَلْ لَكَ بَيِّنَةٌ قَبْلَ الْيَمِينِ: باب: مدعیٰ علیہ کو قسم دلانے سے پہلے حاکم کا مدعی سے یہ پوچھنا کیا تیرے پاس گواہ ہیں؟ حدیث 2666–2667 بَابُ الْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ، فِي الأَمْوَالِ وَالْحُدُودِ: باب: دیوانی اور فوجداری دونوں مقدموں میں مدعیٰ علیہ سے قسم لینا۔ حدیث 2668–2670 بَابُ إِذَا ادَّعَى أَوْ قَذَفَ فَلَهُ أَنْ يَلْتَمِسَ الْبَيِّنَةَ، وَيَنْطَلِقَ لِطَلَبِ الْبَيِّنَةِ: باب: اگر کسی نے کوئی دعویٰ کیا یا (اپنی عورت پر) زنا کا جرم لگایا اور گواہ لانے کے لیے مہلت چاہی تو مہلت دی جائے گی۔ حدیث 2671–2671 بَابُ الْيَمِينِ بَعْدَ الْعَصْرِ: باب: عصر کی نماز کے بعد (جھوٹی) قسم کھانا اور زیادہ گناہ ہے۔ حدیث 2672–2672 بَابُ يَحْلِفُ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ حَيْثُمَا وَجَبَتْ عَلَيْهِ الْيَمِينُ، وَلاَ يُصْرَفُ مِنْ مَوْضِعٍ إِلَى غَيْرِهِ: باب: مدعیٰ علیہ پر جہاں قسم کھانے کا حکم دیا جائے وہیں قسم کھا لے یہ ضروری نہیں کہ کسی دوسری جگہ پر جا کر قسم کھائے۔ حدیث 2673–2673 بَابُ إِذَا تَسَارَعَ قَوْمٌ فِي الْيَمِينِ: باب: جب چند آدمی ہوں اور ہر ایک قسم کھانے میں جلدی کرے تو پہلے کس سے قسم لی جائے۔ حدیث 2674–2674 بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلاً} : باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ آل عمران میں) فرمان کہ ”جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے ذریعہ تھوڑی قیمت حاصل کرتے ہیں“۔ حدیث 2675–2677 بَابُ كَيْفَ يُسْتَحْلَفُ: باب: کیوں کر قسم لی جائے۔ حدیث 2678–2679 بَابُ مَنْ أَقَامَ الْبَيِّنَةَ بَعْدَ الْيَمِينِ: باب: جس مدعی نے (مدعیٰ علیہ کی) قسم کھا لینے کے بعد گواہ پیش کیے۔ حدیث 2680–2680 بَابُ مَنْ أَمَرَ بِإِنْجَازِ الْوَعْدِ: باب: جس نے وعدہ پورا کرنے کا حکم دیا۔ حدیث 2681–2684 بَابُ لاَ يُسْأَلُ أَهْلُ الشِّرْكِ عَنِ الشَّهَادَةِ وَغَيْرِهَا: باب: مشرکوں کی گواہی قبول نہ ہو گی۔ حدیث 2685–2685 بَابُ الْقُرْعَةِ فِي الْمُشْكِلاَتِ: باب: مشکلات کے وقت قرعہ اندازی کرنا۔ حدیث 2686–2689 اس باب کی تمام احادیث ❮ پچھلا باب اگلا باب ❯