کتب حدیثمختصر صحيح بخاريابوابباب: کچے لہسن اور پیاز اور گندنا کے باب میں جو حدیث آئی ہے اس کا بیان ۔
حدیث نمبر: 485
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص اس پودے یعنی لہسن میں سے کھائے ، وہ ہماری مسجد میں ہم سے نہ ملے ۔ “ راوی ( عطاء ) کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہا کہ کس قسم کا لہسن مراد ہے ؟ تو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بولے کہ میں یہی جانتا ہوں کہ کچا لہسن مراد ہے یا لہسن کی بدبو مراد ہے ۔
حوالہ حدیث مختصر صحيح بخاري / حدیث: 485
حدیث نمبر: 486
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص لہسن یا پیاز کھائے وہ ہم سے علیحدہ رہے ۔ “ یا یہ فرمایا : ” ہماری مسجد سے علیحدہ رہے اور اپنے گھر میں بیٹھے ” اور ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ہنڈیا لائی گئی جس میں چند سبزیاں ( پکی ہوئی ) تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں کچھ بو پائی تو دریافت فرمایا : ” اس میں کیا ہے ؟ “ تو جتنی سبزیاں اس میں تھیں وہ سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دی گئیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے میرے بعض صحابہ کی طرف ( جو اس وقت ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے ، قریب کر دو ۔ “ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا کہ اس صحابی نے بھی یہ سبزیاں کھانا ناپسند کیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم کھاؤ ( میں نہ کھاؤں گا ) کیونکہ میں اس سے سرگوشیاں کرتا ہوں جس سے تم سرگوشیاں نہیں کرتے ۔ “
حوالہ حدیث مختصر صحيح بخاري / حدیث: 486
حدیث نمبر: 487
ابوعبداللہ آصف
´اسی طرح ایک دوسری روایت میں ہے ( ابن وھب کہتے ہیں ) کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ” بدر “ یعنی تھال یا بڑی پلیٹ لائی گئی جس میں سبزیاں تھیں ۔
حوالہ حدیث مختصر صحيح بخاري / حدیث: 487