کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: جب کوئی کسی شخص کو گھوڑا سواری کے لیے ہدیہ کر دے تو وہ عمریٰ اور صدقہ کی طرح ہوتا ہے (کہ اسے واپس نہیں لیا جا سکتا)۔
حدیث نمبر: Q2636
وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ لَهُ أَنْ يَرْجِعَ فِيهَا .
مولانا داود راز
لیکن بعض لوگوں نے کہا ہے کہ وہ واپس لیا جا سکتا ہے ۔
حدیث نمبر: 2636
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَالِكًا يَسْأَلُ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ ، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : حَمَلْتُ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللهِ ، فَرَأَيْتُهُ يُبَاعُ ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " لَا تَشْتَرِهِ ، وَلَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ " .
مولانا داود راز
´ہم سے حمیدی نے بیان کیا ، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی ، کہا کہ میں نے مالک سے سنا ، انہوں نے زید بن اسلم سے پوچھا تھا تو انہوں نے بیان کیا کہ` میں نے اپنے باپ سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے ایک گھوڑا اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے ایک شخص کو دے دیا تھا ، پھر میں نے دیکھا کہ وہ اسے بیچ رہا ہے ۔ اس لیے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اسے واپس میں ہی خرید لوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اس گھوڑے کو نہ خرید ۔ اپنا دیا ہوا صدقہ واپس نہ لو ۔ “