کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: عام دستور کے مطابق کسی نے کسی شخص سے کہا کہ یہ لڑکی میں نے تمہاری خدمت کے لیے دے دی تو جائز ہے۔
حدیث نمبر: Q2635
وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ : هَذِهِ عَارِيَّةٌ ، وَإِنْ قَالَ : كَسَوْتُكَ هَذَا الثَّوْبَ فَهُوَ هِبَةٌ .
مولانا داود راز
´بعض لوگوں نے کہا کہ` لڑکی عاریتاً ہو گی اور اگر یہ کہا کہ میں نے تمہیں یہ کپڑا پہننے کے لیے دیا تو کپڑا ہبہ سمجھا جائے گا ۔
حدیث نمبر: 2635
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " هَاجَرَ إِبْرَاهِيمُ بِسَارَةَ ، فَأَعْطَوْهَا آجَرَ ، فَرَجَعَتْ ، فَقَالَتْ : أَشَعَرْتَ أَنَّ اللهَ كَتَبَ الْكَافِرَ ، وَأَخْدَمَ وَلِيدَةً " . وَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْدَمَهَا هَاجَرَ .
مولانا داود راز
´ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی ، ان سے ابوالزناد نے بیان کیا ، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ابراہیم علیہ السلام نے سارہ علیہا السلام کے ساتھ ہجرت کی تو انہیں بادشاہ نے آجر کو ( یعنی ہاجرہ علیہا السلام کو ) عطیہ میں دے دیا ۔ پھر وہ واپس ہوئیں اور ابراہیم علیہ السلام سے کہا ، دیکھا آپ نے اللہ تعالیٰ نے کافر کو کس طرح ذلیل کیا اور ایک لڑکی خدمت کے لیے بھی دے دی ۔ ابن سیرین نے کہا ، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا کہ بادشاہ نے ہاجرہ کو ان کی خدمت کے لیے دے دیا تھا ۔