کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: کسی کے لیے حلال نہیں کہ اپنا دیا ہوا ہدیہ یا صدقہ واپس لے لے۔
حدیث نمبر: 2621
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، وَشُعْبَةُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ ، كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشام اور شعبہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے قتادہ نے بیان کیا سعید بن مسیب سے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اپنا دیا ہوا ہدیہ واپس لینے والا ایسا ہے جیسے اپنی کی ہوئی قے کو چاٹنے والا ۔ “
حدیث نمبر: 2622
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السَّوْءِ الَّذِي يَعُودُ فِي هِبَتِهِ ، كَالْكَلْبِ يَرْجِعُ فِي قَيْئِهِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے عبدالرحمٰن بن مبارک نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ایوب نے بیان کیا عکرمہ سے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ہم مسلمانوں کو بری مثال نہ اختیار کرنی چاہئے ۔ اس شخص کی سی جو اپنا دیا ہوا ہدیہ واپس لے لے ، وہ اس کتے کی طرح ہے جو اپنی قے خود چاٹتا ہے ۔ “
حدیث نمبر: 2623
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : حَمَلْتُ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَضَاعَهُ الَّذِي كَانَ عِنْدَهُ ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِيَهُ مِنْهُ ، وَظَنَنْتُ أَنَّهُ بَائِعُهُ بِرُخْصٍ ، فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : لَا تَشْتَرِهِ ، وَإِنْ أَعْطَاكَهُ بِدِرْهَمٍ وَاحِدٍ ، فَإِنَّ الْعَائِدَ فِي صَدَقَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا زید بن اسلم سے ، ان سے ان کے باپ نے کہ` انہوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا ۔ آپ نے فرمایا کہ میں نے ایک گھوڑا اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے ( ایک شخص کو ) دیا ) ۔ جسے میں نے وہ گھوڑا دیا تھا ، اس نے اسے دبلا کر دیا ۔ اس لیے میرا ارادہ ہوا کہ اس سے اپنا وہ گھوڑا خرید لوں ، میرا یہ بھی خیال تھا کہ وہ شخص وہ گھوڑا سستے داموں پر بیچ دے گا ۔ لیکن جب میں نے اس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ تم اسے نہ خریدو ، خواہ تمہیں وہ ایک ہی درہم میں کیوں نہ دے ۔ کیونکہ اپنے صدقہ کو واپس لینے والا شخص اس کتے کی طرح ہے جو اپنی ہی قے خود چاٹتا ہے ۔