کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: اگر کسی کو کچھ ہدیہ دیا جائے اس کے پاس اور لوگ بھی بیٹھے ہوں تو اب اس کو دیا جائے جو زیادہ حقدار ہے۔
حدیث نمبر: Q2609
وَيُذْكَرُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ جُلَسَاءَهُ شُرَكَاءُ وَلَمْ يَصِحَّ .
مولانا داود راز
مولانا داود راز ‏‏‏‏ .
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الهبة / حدیث: Q2609
حدیث نمبر: 2609
حَدَّثَنَا ابْنُ مُقَاتِلٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ أَخَذَ سِنًّا فَجَاءَ صَاحِبُهُ يَتَقَاضَاهُ ، فَقَالَ : " إِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا ، ثُمَّ قَضَاهُ أَفْضَلَ مِنْ سِنِّهِ ، وَقَالَ : أَفْضَلُكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً " .
مولانا داود راز
´ہم سے ابن مقاتل نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی شعبہ سے ، انہیں ابوسلمہ بن کہیل نے ، انہیں ابوسلمہ نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹ بطور قرض لیا ، قرض خواہ تقاضا کرنے آیا ( اور نازیبا گفتگو کی ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” حق والے کو کہنے کا حق ہوتا ہے ۔ “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اچھی عمر کا اونٹ اسے دلا دیا اور فرمایا ” تم میں افضل وہ ہے جو ادا کرنے میں سب سے بہتر ہو ۔ “
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الهبة / حدیث: 2609
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2610
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، " أَنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَكَانَ عَلَى بَكْرٍ لِعُمَرَ صَعْبٍ ، فَكَانَ يَتَقَدَّمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَقُولُ أَبُوهُ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، لَا يَتَقَدَّمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بِعْنِيهِ ، فَقَالَ عُمَرُ : هُوَ لَكَ ، فَاشْتَرَاهُ ، ثُمَّ قَالَ : هُوَ لَكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ ، فَاصْنَعْ بِهِ مَا شِئْتَ " .
مولانا داود راز
´ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن عیینہ نے بیان کیا عمرو سے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ` وہ سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور عمر رضی اللہ عنہ کے ایک سرکش اونٹ پر سوار تھے ۔ وہ اونٹ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی آگے بڑھ جایا کرتا تھا ۔ اس لیے ان کے والد ( عمر رضی اللہ عنہ ) کو تنبیہ کرنی پڑتی تھی کہ اے عبداللہ ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے کسی کو نہ ہونا چاہئے ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ! کہ عمر ! اسے مجھے بیچ دے ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یہ تو آپ ہی کا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خرید لیا ۔ پھر فرمایا ، عبداللہ یہ اب تیرا ہے ۔ جس طرح تو چاہے استعمال کر ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الهبة / حدیث: 2610
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة