حدیث نمبر: Q2602
وَقَالَتْ أَسْمَاءُ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، وَابْنِ أَبِي عَتِيقٍ : وَرِثْتُ عَنْ أُخْتِي عَائِشَةَ مَالًا بِالْغَابَةِ ، وَقَدْ أَعْطَانِي بِهِ مُعَاوِيَةُ مِائَةَ أَلْفٍ فَهُوَ لَكُمَا .
مولانا داود راز
´اور اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے قاسم بن محمد اور ابن ابی عتیق سے کہا کہ` میری بہن عائشہ رضی اللہ عنہا سے وراثت میں مجھے غابہ ( کی زمین ) ملی تھی ۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے مجھے اس کا ایک لاکھ ( درہم ) دیا لیکن میں نے اسے نہیں بیچا ، یہی تم دونوں کو ہدیہ ہے ۔
حدیث نمبر: 2602
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ ، وَعَنْ يَمِينِهِ غُلَامٌ ، وَعَنْ يَسَارِهِ الْأَشْيَاخُ ، فَقَالَ لِلْغُلَامِ : إِنْ أَذِنْتَ لِي أَعْطَيْتُ هَؤُلَاءِ ، فَقَالَ : مَا كُنْتُ لِأُوثِرَ بِنَصِيبِي مِنْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَدًا فَتَلَّهُ فِي يَدِهِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے امام مالک نے ، وہ ابوحازم سے ، وہ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پینے کو کچھ لایا ، ( دودھ یا پانی ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرمایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف ایک بچہ بیٹھا تھا اور بڑے بوڑھے لوگ بائیں طرف بیٹھے ہوئے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے سے فرمایا کہ اگر تو اجازت دے ( تو بچا ہوا پانی ) میں ان بڑے لوگوں کو دے دوں ؟ لیکن اس نے کہا ۔ یا رسول اللہ ! آپ کے جوٹھے میں سے ملنے والے کسی حصہ کا میں ایثار نہیں کر سکتا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالہ جھٹکے کے ساتھ اسی کی طرف بڑھا دیا ۔