کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: غلام لونڈی اور سامان پر کیوں کر قبضہ ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: Q2599
وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : كُنْتُ عَلَى بَكْرٍ صَعْبٍ ، فَاشْتَرَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : هُوَ لَكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ .
مولانا داود راز
´اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ` میں ایک سرکش اونٹ پر سوار تھا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے تو اسے خریدا پھر فرمایا ” عبداللہ یہ اونٹ تو لے لے ۔ “
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الهبة / حدیث: Q2599
حدیث نمبر: 2599
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةً وَلَمْ يُعْطِ مَخْرَمَةَ مِنْهَا شَيْئًا ، فَقَالَ مَخْرَمَةُ : يَا بُنَيَّ ، انْطَلِقْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ ، فَقَالَ : ادْخُلْ فَادْعُهُ لِي ، قَالَ : فَدَعَوْتُهُ لَهُ ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ وَعَلَيْهِ قَبَاءٌ مِنْهَا ، فَقَالَ : خَبَأْنَا هَذَا لَكَ ، قَالَ : فَنَظَرَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : رَضِيَ مَخْرَمَةُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ابن ابی ملیکہ سے اور وہ مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند قبائیں تقسیم کیں اور مخرمہ رضی اللہ عنہ کو اس میں سے ایک بھی نہیں دی ۔ انہوں نے ( مجھ سے ) کہا ، بیٹے چلو ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں چلیں ۔ میں ان کے ساتھ چلا ۔ پھر انہوں نے کہا کہ اندر جاؤ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرو کہ میں آپ کا منتظر کھڑا ہوا ہوں ، چنانچہ میں اندر گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا لایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت انہیں قباؤں میں سے ایک قباء پہنے ہوئے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے یہ تمہارے لیے چھپا رکھی تھی ، لو اب یہ تمہاری ہے ۔ مسور نے بیان کیا کہ ( میرے والد ) مخرمہ رضی اللہ عنہ نے قباء کی طرف دیکھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” مخرمہ ! خوش ہو یا نہیں ؟ “
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الهبة / حدیث: 2599
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة