کتب حدیث ›
سلسله احاديث صحيحه › ابواب
› باب: امیر کی اطاعت کا حکم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کی سنت کی روشنی میں اختلاف کو دور کیا جائے
حدیث نمبر: 4089
- " أوصيكم بتقوى الله والسمع والطاعة وإن كان عبدا حبشيا، فإنه من يعش منكم بعدي يرى اختلافا كثيرا، فعليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهديين بعدي، عضوا عليها بالنواجذ [وإياكم ومحدثات الأمور، فإن كل محدثة بدعة وكل بدعة ضلالة] ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بعد از نماز فجر نہایت مؤثر وعظ کیا ، جس سے آنکھیں بہہ پڑیں اور دل ڈر گئے ۔ ایک صحابی نے کہا : اے اللہ کے رسول ! یہ تو گویا الوداع کہنے والے کا آخری وعظ ہے ، ( پس آپ ہمیں کوئی وصیت فرما دیجئیے ) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”میں تمہیں اللہ سے ڈرنے کی اور امیر کی بات سننے اور اس پر عمل کرنے کی وصیت کرتا ہوں ، اگرچہ تم پر کوئی حبشی غلام ہی امیر مقرر ہو جائے ۔ ( یاد رکھو ! ) تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا ، وہ بہت اختلاف دیکھے گا ، پس تم میری سنت کو اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے کو لازم پکڑنا ، ان کو دانتوں سے مضبوط پکڑ لینا ۔ دین میں نئے نئے کام ایجاد کرنے سے بچنا ، کیونکہ ( دین میں ) ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے ۔“