حدیث نمبر: 2518
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ ، قُلْتُ : فَأَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : أَغْلَاهَا ثَمَنًا ، وَأَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا ، قُلْتُ : فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ ؟ قَالَ : تُعِينُ ضَايِعًا أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ ، قَالَ : فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ ؟ قَالَ : تَدَعُ النَّاسَ مِنَ الشَّرِّ ، فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ تَصَدَّقُ بِهَا عَلَى نَفْسِكَ " .
مولانا داود راز
´ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے ، ان سے ان کے والد نے ، ان سے ابومرواح نے اور ان سے ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کون سا عمل افضل ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا ۔ میں نے پوچھا اور کس طرح کا غلام آزاد کرنا افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جو سب سے زیادہ قیمتی ہو اور مالک کی نظر میں جو بہت زیادہ پسندیدہ ہو ۔ میں نے عرض کیا کہ اگر مجھ سے یہ نہ ہو سکا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، کہ پھر کسی مسلمان کاریگر کی مدد کر یا کسی بے ہنر کی ۔ انہوں نے کہا کہ اگر میں یہ بھی نہ کر سکا ؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ کر دے کہ یہ بھی ایک صدقہ ہے جسے تم خود اپنے اوپر کرو گے ۔