کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: بالوں کا خلال کرنا اور جب یقین ہو جائے کہ کھال تر ہو گئی تو اس پر پانی بہا دینا (جائز ہے)۔
حدیث نمبر: 272
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ غَسَلَ يَدَيْهِ وَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ، ثُمَّ اغْتَسَلَ ، ثُمَّ يُخَلِّلُ بِيَدِهِ شَعَرَهُ حَتَّى إِذَا ظَنَّ أَنَّهُ قَدْ أَرْوَى بَشَرَتَهُ أَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ غَسَلَ سَائِرَ جَسَدِهِ .
مولانا داود راز
´ہم سے عبدان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا ، انہوں نے اپنے والد کے حوالہ سے کہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کا غسل کرتے تو پہلے اپنے ہاتھوں کو دھوتے اور نماز کی طرح وضو کرتے ۔ پھر غسل کرتے ۔ پھر اپنے ہاتھوں سے بالوں کا خلال کرتے اور جب یقین کر لیتے کہ جسم تر ہو گیا ہے ۔ تو تین مرتبہ اس پر پانی بہاتے ، پھر تمام بدن کا غسل کرتے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الغسل / حدیث: 272
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 273
وَقَالَتْ : كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ نَغْرِفُ مِنْهُ جَمِيعًا " .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک برتن میں غسل کرتے تھے ۔ ہم دونوں اس سے چلو بھربھر کر پانی لیتے تھے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الغسل / حدیث: 273
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة