کتب حدیث ›
سلسله احاديث صحيحه › ابواب
› باب: جنت میں جانے والا دنیا کی تکالیف کو جہنم میں جانے والا دنیا کے سکون کو بھول جائے گا
حدیث نمبر: 1787
- " يؤتى بأشد الناس كان بلاء في الدنيا من أهل الجنة، فيقول أصبغوه صبغة الجنة ، فيصبغونه فيها صبغة، فيقول الله عز وجل: يا ابن آدم هل رأيت بؤسا قط أو شيئا تكرهه؟ فيقول: لا وعزتك ما رأيت شيئا أكرهه قط، ثم يؤتى بأنعم الناس كان في الدنيا من أهل النار فيقول: أصبغوه فيها صبغة، فيقول: يا ابن آدم هل رأيت خيرا قط قرة عين قط؟ فيقول: لا وعزتك ما رأيت خيرا قط ولا قرة عين قط ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دنیا میں سب سے زیادہ آزمائش زدہ شخص ، جو جنتی ہو گا ، کو لایا جائے گا ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اس کو جنت کا چکر لگواؤ ، سو فرشتے اسے جنت کا چکر لگوائیں گے ۔ پھر اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا : آدم کے بیٹے ! کیا تو نے دنیا میں کوئی تنگ حالی یا ناپسندیدہ چیز دیکھی ہے ؟ وہ کہے گا : تیری عزت کی قسم ! میں نے کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی جو مجھے ناپسند ہو ۔ “ پھر دنیا کے سب سے خوشحال شخص ، جو جہنمی ہو گا ، کو لایا جائے گا ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اس کو ایک دفعہ جہنم میں ڈبوؤ ۔ پھر اللہ تعالیٰ پوچھے گا : آدم کے بیٹے ! کیا تو نے کبھی کوئی اچھی یا باعث تسکین چیز دیکھی ہے ؟ وہ کہے گا : تیری عزت کی قسم ! آج تک میں نے کوئی خیر ، (سکون) اور آنکھوں کی ٹھنڈک نہیں دیکھی ۔ “