کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: ابتدائی طور پر ”علیک السلام“ کہنا کیسا ہے ؟
حدیث نمبر: 1744
- " إن " عليك السلام " تحية الميت، إن " عليك السلام " تحية الميت (ثلاثا) إذا لقي الرجل أخاه المسلم فليقل: السلام عليكم ورحمة الله ".
حافظ محفوظ احمد
ابوتمیمہ ہجیمی سے روایت ہے کہ ہماری قوم کے ایک آدمی نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کیا لیکن کامیاب نہ ہو سکا ، (بالآخر) میں بیٹھ گیا ۔ اچانک لوگوں کی ایک جماعت پر میری نگاہ پڑی ، ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف فرما تھے لیکن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانتا نہیں تھا ۔ ایک آدمی ان کے مابین صلح کروا رہا تھا ، جب وہ فارغ ہوا تو بعض لوگ اس کے ساتھ چل دیے اور کہا: اے اللہ کے رسول ! یہ دیکھ کر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں سلام کہا: ” «عليك السلام يا رسول الله ، عليك السلام يا رسول الله ، عليك السلام يا رسول الله» آپ پر سلامتی ہو ، اے اللہ کے رسول . . . (تین دفعہ کہا) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”بیشک «عليكم السلام» مردوں کا سلام ہے ۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ تین دفعہ ارشاد فرمایا) جب کوئی مسلمان اپنے بھائی کو سلام کہے تو «السلام عليكم ورحمة الله» کہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سلام کا جواب دیتے ہوئے فرمایا : «وعليك ورحمة الله ، وعليك ورحمة الله ، وعليك ورحمة الله» اور تجھ پر بھی سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو . . . (تین دفعہ فرمایا) ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / المرض والجنائز والقبور / حدیث: 1744