حدیث نمبر: 1680
- " إن الله تعالى يقول: إذا ابتليت عبدا من عبادي مؤمنا، فحمدني وصبر على ما ابتليته به، فإنه يقوم من مضجعه ذلك كيوم ولدته أمه من الخطايا، ويقول الرب للحفظة: إني أنا قيدت عبدي هذا وابتليته، فأجروا (له) من الأجر ما كنتم تجرون له قبل ذلك وهو صحيح ".
حافظ محفوظ احمد
ابو اشعث صنعانی کہتے ہیں : میں مسجد دمشق کی طرف گیا اور اول وقت میں گیا ، مجھے شداد بن اوس رضی اللہ عنہ ملے ، ان کے ساتھ صنابحی بھی تھے ۔ میں نے ان سے پوچھا : اللہ تم پر رحم کرے ، کہاں کا ارادہ ہے ؟ انہوں نے کہا : ہم اپنے ایک بھائی کی تیمارداری کرنے کے لیے جا رہے ، ( یہ سن کر ) میں بھی ان کے ساتھ چل دیا ۔ ہم اس مریض کے پاس پہنچ گئے ۔ ان دونوں نے اس سے پوچھا : حالات کیسے ہیں ؟ اس نے جواب دیا : اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے ۔ سیدنا شداد رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : جب میں اپنے مومن بندے کو آزماتا ہوں اور وہ میری تعریف کرتے ہوئے میری آزمائش پر صبر کرتا ہے تو ( شفا یاب ہو کر ) اپنے بستر سے اس دن کی طرح گناہ سے پاک ہو کر اٹھتا ہے جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا ۔ مزید یہ کہ اللہ تعالیٰ اعمال لکھنے والے فرشتوں سے فرماتے ہیں : میں نے اپنے اس بندے کو پابند کر لیا ہے اور اسے آزما رہا ہوں ، تم اس کی تندرستی کی حالت میں اس کے ( اعمال پر ) جو جو لکھتے تھے اس کو برقرار رکھو ( اگرچہ یہ عمل نہیں کر رہا ) ۔ “