کتب حدیث ›
سلسله احاديث صحيحه › ابواب
› باب: جھوٹی قسم کے نقصانات، جھوٹی قسم کے ذریعے دنیوی فوائد حاصل کرنا چالا کی نہیں وبال ہے
حدیث نمبر: 1417
- (اليمين الكاذبة منفقة للسلعة، ممحقة للكسب، (وفي لفظ:) للبركة) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جھوٹی قسم سودا تو بیچنے والی ہے ، لیکن کمائی مٹا دینے والی ہے ۔“ اور ایک روایت کے لفظ ہیں : ”برکت مٹا دینے والی ہے ۔“
حدیث نمبر: 1418
- (من اقتطع مال امرئ مسلم؛ بيمين كاذبة؛ كانت نكتة سوداء في قلبه، لا يغيرها شيء إلى يوم القيامة) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوامامہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ”جس نے جھوٹی قسم کے ساتھ کسی مسلمان کے مال پر قبضہ کیا ، اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے ، جس کو قیامت تک کوئی چیز نہیں مٹا سکتی ۔“