حدیث نمبر: 1411
- " أصبت بعضا وأخطأت بعضا ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میں نے رات کو ایک خواب دیکھا ، کیا دیکھتا ہوں کہ ایک سائباں ہے ، اس سے گھی اور شہد ٹپک رہا تھا، میں نے دیکھا کہ لوگ اس سے چلو بھر رہے ہیں ، کوئی زیادہ لے رہا ہے اور کوئی کم ۔ ادھر ایک رسی ہے جو زمین سے آسمان تک پہنچ رہی ہے۔ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اس کو پکڑا اور اوپر چڑھ گئے ، پھر ایک دوسرے آدمی نے اس کو پکڑا اور وہ بھی چڑھ گیا ، پھر ایک تیسرے آدمی نے پکڑا ، اور وہ بھی اوپر چڑھ گیا ، پھر ایک آدمی نے اس کو پکڑا لیکن وہ رسی ٹوٹ گئی ، پھر اسے جوڑا گیا ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ مجھے اجازت دیں میں اس کی تعبیر بیان کرتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”(ٹھیک ہے ) تم اس کی تعبیر بیان کرو ۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: سائبان اسلام ہے اور اس سے ٹپکنے والے شہد اور گھی سے مراد قرآن کی مٹھاس ہے ۔ پس کوئی قرآن کا زیادہ حصہ سیکھنے والا ہے اور کوئی کم اور جو آسمان سے زمین تک پہنچنے والی رسی ہے ، وہ حق ہے ، جس پر آپ قائم ہیں ۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس کے ذریعے سربلند فرمائے گا ۔ پھر اس کو ایک آدمی پکڑے گا ، وہ بھی اس کے ساتھ بلندی پر فائز ہو گا ، پھر اس کو ایک دوسرا آدمی پکڑے گا وہ اس کے ساتھ بلند ہو گا ، پھر اس کو تیسرا آدمی پکڑے گا ، پس وہ ٹوٹ جائے گی ۔ پھر اس کو جوڑا جائے گا ، پھر وہ اس کے ساتھ بلند ہو گا ، اے اللہ کے رسول ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، مجھے بتلائیے میری یہ بیان کردہ تعبیر صحیح ہے یا غلط ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”بعض حصہ درست بیان کیا اور بعض میں غلطی کی ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! آپ ضرور میری غلطی کو بیان کریں گے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ابوبکر ! قسم نہ اٹھاؤ ۔“