حدیث نمبر: 1389
- (إنِّي دافعٌ لِوَائي غداً إلى رجُلٍ يحبُّ الله ورسوله، ويحبُّه الله ورسولُه، لا يرجعُ حتّى يُفتح له. يعني: علياً- رضي الله عنه-) .
حافظ محفوظ احمد
عبداللہ بن بریدہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوبریدہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہتے ہیں کہ ، ہم نے خیبر کا محاصرہ کر لیا ، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جھنڈا پکڑا ، لیکن فتح نہ ہوئی ۔ دوسرے دن عمر رضی اللہ عنہ نے جھنڈا تھاما ، لیکن فتح نہ ہو سکی اور لوگوں کو اس دن بڑی مصیبت و پریشانی اور محنت و مشقت کا سامنا کرنا پڑا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ کل میں ایسے آدمی کو جھنڈا عطا کروں گا ، جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں ، وہ اس وقت تک نہیں لوٹے گا ، جب تک فتح نہ ہو جائے گی ۔“ ہم نے اس امید میں خوشگوار موڈ میں رات گزاری کہ کل فتح ہو گی ، جب صبح ہوئی تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر پڑھائی ، پھر کھڑے ہوئے ، جھنڈا منگوایا ۔ لوگ اپنی نشستوں پر بیٹھے رہے ۔ جو انسان بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک مقام و مرتبے والا تھا ، اسے جھنڈا بردار ہونے کی امید تھی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو بلایا ، اس وقت وہ آشوب چشم کے مرض میں مبتلا تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لعاب ان کی آنکھ پر لگایا اور پھر اسے صاف کر دیا اور انہیں جھنڈا تھما دیا ، اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ پر فتح عطا کر دی ۔ میں بھی ان میں تھا جو دیکھنے کے لئے گردن لمبی کر رہے تھے (کہ جھنڈا کس کو ملتا ہے ؟ )۔