حدیث نمبر: 1330
- " ما من أمير عشرة إلا يؤتى به يوم القيامة مغلولا، لا يفكه إلا العدل أو يوبقه الجور ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”دس آدمیوں کے امیر کو بھی قیامت کے روز اس حال میں لایا جائے گا کہ وہ جکڑا ہوا ہو گا ، اس کا عدل و انصاف اس کو آزاد کرائے گا یا اس کا ظلم و ستم اس کو ہلاک کر دے گا ۔ “
حدیث نمبر: 1331
- " ما من رجل يلي أمر عشرة فما فوق ذلك إلا أتى الله عز وجل مغلولا يوم القيامة يده إلى عنقه فكه بره أو أوبقه إثمه، أولها ملامة وأوسطها ندامة وآخرها خزى يوم القيامة ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جو آدمی دس افراد کے معاملات کی ذمہ واری سنبھالتا ہے ، وہ روز قیامت اللہ تعالیٰ کے پاس اس حال میں آئے گا کہ اس کے ہاتھ اس کی گردن تک جکڑے ہوں گے ۔ اس کی نیکی اس کو آزاد کرائے گی یا اس کی برائی اس کو ہلاک کر دے گی ۔ ( اس امارت ) کی ابتداء میں ملامت ، درمیان میں ندامت اور آخر میں یعنی قیامت کے روز رسوائی ہوتی ہے ۔ “