کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: خلیفہ معاف نہیں کر سکتا
حدیث نمبر: 1183
- " لا تكونوا أعوانا للشيطان على أخيكم. إنه لا ينبغي للإمام إذا انتهى إليه حد إلا أن يقيمه، إن الله عفو يحب العفو، * (وليعفوا وليصفحوا ألا تحبون أن يغفر الله لكم، والله غفور رحيم) * ".
حافظ محفوظ احمد
ابوماجدہ کہتے ہیں : میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ، انہوں نے کہا: میں اس پہلے آدمی کو جانتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس کا ہاتھ کاٹا تھا ۔ چور کو لایا گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا ، لیکن ایسے لگ رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رنجیدہ ہو گئے ہیں ۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ایسے لگتا ہے کہ آپ اس کا ہاتھ کاٹنے کو ناپسند کر رہے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ مجھے کیا رکاوٹ ہو سکتی ہے ؟ اپنے اس بھائی کے بارے میں شیطان کے مددگار نہ بنو ، ہر امام کو یہی زیب دیتا ہے کہ جونہی اس تک کوئی حد پہنچے وہ اسے نافذ کر دے ، بیشک اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا ہے اور معاف کرنے کو پسند کرتا ہے ، ( ‏‏‏‏ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ”اور وہ معاف کریں اور درگزر کریں ، کیا تم یہ نہیں چاہتے کہ اللہ تعالیٰ تم کو ( ‏‏‏‏تمہاری خطاؤں کو بخشے ) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔“ ( ‏‏‏‏سورہ نور : ۲۲ )
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الحدود والمعاملات والاحكام / حدیث: 1183