حدیث نمبر: 1174
- " من غل منها (يعني الصدقة) بعيرا أو شاة أتي به يوم القيامة يحمله ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اس کی اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی صدقہ کے موضوع پر بحث ہوئی ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : ’’ کیا تم نے سنا تھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صدقے کی خیانت کا ذکر کر رہے تھے ، تو فرمایا تھا : ”جس نے ( صدقہ میں سے ) اونٹ یا بکری کی خیانت کی تو قیامت والے دن وہ اس کو اٹھا کر لائے گا ۔“ ؟ سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ نے کہا : کیوں نہیں ۔
حدیث نمبر: 1175
- " يا سعد! اتق أن تجيء يوم القيامة ببعير تحمله له رغاء ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا اور فرمایا : ”سعد ! بچنا ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تو قیامت کے دن اونٹ اٹھا کر لائے ، اس حال میں کہ وہ بلبلا رہا ہو ۔“ یہ ( وعید ) سن کر سعد نے کہا : میں یہ ذمہ داری قبول نہیں کرتا ، آپ مجھے معاف کر دیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو معاف کر دیا ۔