حدیث نمبر: 1117
- " إذا أنت بايعت فقل: لا خلابة، ثم أنت في كل سلعة ابتعتها بالخيار ثلاث ليال فإن رضيت فأمسك وإن سخطت فارددها على صاحبها ".
حافظ محفوظ احمد
محمد بن یحییٰ بن حبان کہتے ہیں : منقذ بن عمرو میرے دادا ہیں ، ان کے سر میں کوئی ایسی آفت آئی کہ اس نے ان کی زبان کو متاثر کر دیا ، لیکن وہ اس کے باوجود تجارت سے باز نہیں آتے تھے اور ہمیشہ دھوکا کھا جاتے تھے ۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ساری بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلائی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جب تو سودا کرے تو یوں کہا: کر ”دھوکہ نہیں“ پھر تو جو سامان خریدے (اس کو واپس کرنے کے لیے) تجھے تین راتوں تک اختیار ہے اگر تجھے پسند آ جا ئے تو رکھ لے اور ناپسند ہونے کی صورت میں مالک کو واپس کردے ۔“