کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: شبہات سے اجتناب کرنا
حدیث نمبر: 1101
- " أجد لحم شاة أخذت بغير إذن أهلها، أطعموها الأسارى ".
حافظ محفوظ احمد
ایک انصاری صحابی بیان کرتے ہیں : ایک انصاری آدمی کا جنازہ پڑھنے کے لیے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ، جب واپس پلٹے تو ایک قریشی عورت کا داعی ہمیں ملا اور کہا: (اے اللہ کے رسول ! ) فلاں عورت آپ کو آپ کے ساتھیوں سمیت کھانے کے لیے بلا رہی ہے ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور (گھر میں جا کر) بیٹھ گئے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھ گئے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا شروع کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں نے بھی ۔ لیکن صحابہ نے جب دیکھا کہ آپ کا لقمہ آپ کے منہ میں ہے اور آپ اسے نگل نہیں رہے ، تو وہ بھی کھانا کھانے سے رک گئے اور دیکھنے لگ گئے کہ آیا آپ کیا کرتے ہیں۔ آپ نے ( منہ سے ) لقمہ نکالا اور اسے پھینک دیا اور فرمایا : ”مجھے ایسے محسوس ہوتا ہے کہ یہ ایسی بکری کا گوشت ہے ، جو مالک کی اجازت کے بغیر لی گئی ہے ، اس طرح کرو کہ یہ گوشت قیدیوں کو کھلا دو ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / البيوع والكسب والزهد / حدیث: 1101