حدیث نمبر: 1095
- " والله يا عائشة! لو شئت لأجرى الله معي جبال الذهب والفضة ".
حافظ محفوظ احمد
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، وہ کہتی ہیں : ایک انصاری عورت میرے پاس آئی ، اس نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر تو ایک چادر ہے ، جسے دوہرا کر دیا گیا ہے ۔ وہ چلی گئی اور ایسا بچھونا بھیجا ، جس کا بھراؤ اون تھی ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے تو پوچھا: ”یہ کیا ہے ؟“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! فلاں انصاری خاتون میرے پاس آئی تھی ، اس نے آپ کا بستر دیکھا اور چلی گئی اور یہ بچھونا بھیج دیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”یہ واپس کر دو ۔“ لیکن میں نے واپس نہ کیا ، کیونکہ میں پسند کرتی تھی کہ میرے گھر میں (ایسا بچھونا) ہونا چاہیے ۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دفعہ فرما دیا (کہ اس کو واپس کر دو) ۔ پھر فرمایا : ”اللہ کی قسم ! اے عائشہ ! اگر میں چاہوں تو اللہ تعالیٰ سونے اور چاندی کے پہاڑے میرے ساتھ چلا دے ۔“