کتب حدیث ›
سلسله احاديث صحيحه › ابواب
› باب: احرام سے پہلے لگائی ہوئی خوشبو کو احرام کے لیے دھویا جائے یا نہیں؟
حدیث نمبر: 1019
- " ألق [عنك] ثيابك واغتسل، واستنق ما استطعت، وما كنت صانعا في حجتك، فاصنعه في عمرتك ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، وہ زعفران میں لت پت تھا ، اس نے کاٹ سل کر تیار ہونے والے کپڑے زیب تن کیے ہوئے تھے اور اس نے عمرے کا احرام باندھا ہوا تھا ۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ! اب اپ مجھے اس عمرے کے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں ؟ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : ”اور اللہ کے لیے حج اور عمرہ مکمل کرو ۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”عمرہ کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے ۔ ؟“ اس نے کہا: جی ، میں یہ ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اپنے کپڑے اتار دو ، غسل کر لو اور حسب استطاعت صفائی کرو اور جو کچھ تم حج میں کرنے والے تھے ، وہی کچھ عمرے میں سرانجام دو ۔“