حدیث نمبر: 934
- " كان يخرج يوم الأضحى ويوم الفطر فيبدأ بالصلاة، فإذا صلى صلاته وسلم قام [ قائما] [على رجليه] ، فأقبل على الناس [بوجهه] وهم جلوس في مصلاهم، فإن كان له حاجة ببعث ذكره للناس، أو كانت له حاجة بغير ذلك أمرهم بها، وكان يقول: " تصدقوا تصدقوا تصدقوا ". وكان أكثر من يتصدق النساء، ثم ينصرف ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدالاضحیٰ اور عیدالفطر کے موقع پر نکلتے اور نماز سے ابتدا کرتے ، جب نماز سے سلام پھیرتے تو اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جاتے ، لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے اور لوگ آپ کے سامنے اپنی اپنی جگہ پر بیٹھے رہتے ۔ اگر آپ کو کوئی لشکر بھیجنے کی ضرورت یا کوئی اور حاجت ہوتی تو لوگوں کے سامنے اس کا تذکرہ کرتے اور اسے پورا کرنے کا حکم دیتے ، نیز فرماتے : ’’ صدقہ کرو ، صدقہ کرو ، صدقہ کرو ۔“ زیادہ تر صدقہ کرنے والی عورتیں ہوتی تھیں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پلٹ جاتے تھے ۔