حدیث نمبر: 925
- (ذكرتُ [وأنا في الصلاة] شيئاً من تِبْرٍ [من الصدقة] عند نا، فكرهت أن يحبسني (وفي رواية: أن يُمْسِيَ- أو يبيتَ- عند نا) ؛ فأمرتُ بقسمته) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز عصر پڑھی ، جب آپ نے سلام پھیرا تو جلدی جلدی کھڑے ہوئے اور لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے ایک بیوی کے گھر میں داخل ہو گئے ۔ لوگوں کو آپ کی سرعت سے تعجب ہوا ، ( اتنے میں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس آ گئے اور دیکھا کہ لوگوں کو آپ کی جلدی پر تعجب ہو رہا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نماز پڑھ رہا تھاکہ مجھے (سونے یا چاندی) کی زکوٰۃ کی ایک ڈلی یاد آئی ، جو ہمارے پاس تھی ۔ میں نے ناپسند کیا کہ وہ مجھے روک لے (اور ایک روایت میں ہے کہ وہ ہمارے پاس شام کرے یا رات گزارے ) اس لیے میں نے اسے (ابھی ابھی) تقسیم کرنے کا حکم دیا ہے ۔“