کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: دو دو کھجوریں ملا کر کھانا کسی شریک کو جائز نہیں جب تک دوسرے ساتھ والوں سے اجازت نہ لے۔
حدیث نمبر: 2489
حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا جَبَلَةُ بْنُ سُحَيْمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : " نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْرُنَ الرَّجُلُ بَيْنَ التَّمْرَتَيْنِ جَمِيعًا حَتَّى يَسْتَأْذِنَ أَصْحَابَهُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، کہا ہم سے جبلہ بن سحیم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا ۔ انہوں نے کہا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا تھا کہ کوئی شخص اپنے ساتھیوں کی اجازت کے بغیر ( دستر خوان پر ) دو دو کھجور ایک ساتھ ملا کر کھائے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الشركة / حدیث: 2489
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2490
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَبَلَةَ ، قَالَ : كُنَّا بِالْمَدِينَةِ فَأَصَابَتْنَا سَنَةٌ ، فَكَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَرْزُقُنَا التَّمْرَ ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَمُرُّ بِنَا ، فَيَقُولُ : لَا تَقْرُنُوا ، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْإِقْرَانِ ، إِلَّا أَنْ يَسْتَأْذِنَ الرَّجُلُ مِنْكُمْ أَخَاهُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے جبلہ نے بیان کیا کہ` ہمارا قیام مدینہ میں تھا اور ہم پر قحط کا دور دورہ ہوا ۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ہمیں کھجور کھانے کے لیے دیتے تھے اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما گزرتے ہوئے یہ کہہ کر جایا کرتے تھے کہ دو دو کھجور ایک ساتھ ملا کر نہ کھانا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دوسرے ساتھی کی اجازت کے بغیر ایسا کرنے سے منع فرمایا ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الشركة / حدیث: 2490
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة