کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دی گئی رخصت قبول جائے
حدیث نمبر: 899
- " ما بال رجال بلغهم عني أمر ترخصت فيه، فكرهوه وتنزهوا عنه؟ ! فوالله لأنا أعلمهم بالله وأشدهم له خشية ".
حافظ محفوظ احمد
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کام کیا اور پھر اس میں رخصت دے دی ۔ جب یہ بات صحابہ کرام تک پہنچی تو انہوں نے اس رخصت کو ناپسند کیا اور اس سے اجتناب کرنے لگے ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (ان کے رویے ) کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بطور خطیب کھڑے ہوئے اور فرمایا : ” لوگوں کو کیا ہو گیا ہے ، میری طرف سے ایک رخصت والا معاملہ ان تک پہنچا ، لیکن انہوں نے اسے ناپسند کیا اور اس سے گریز کرنے لگے ؟ اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ جاننے والا میں ہوں اور اس سے سب سے زیادہ ڈرنے والا بھی میں ہوں ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الصيام والقيام / حدیث: 899
حدیث نمبر: 900
- " هي رخصة ـ يعني الفطر في السفر ـ من الله، فمن أخذ بها فحسن، ومن أحب أن يصوم، فلا جناح عليه ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اے اللہ کے رسول ! میں سفر میں روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں ، (اگر میں ایسے کروں تو) کیا مجھ پر کوئی گناہ ہو گا ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً فرمایا : ”یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رخصت ہے ، جو اس کو قبول کرے گا ، سو اچھی بات ہو گی اور جو روزہ رکھنا چاہے ، اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الصيام والقيام / حدیث: 900