حدیث نمبر: 896
- " كلوا واشربوا ولا يهيدنكم الساطع المصعد، فكلوا واشربوا حتى يعترض لكم الأحمر ".
حافظ محفوظ احمد
عبداللہ بن نعمان سحیمی کہتے ہیں : رمضان کی رات کے آخری حصے کی بات ہے ، قیس بن طلق کچھ سالن مانگنے کے لیے میرے پاس آئے ، جبکہ میں صبح کے ڈر سے سحری کے کھانے سے فارغ ہو چکا تھا ۔ میں نے کہا: چچا جان ! اگر رات کا کوئی حصہ باقی ہے (اور سحری کھانے کی گنجائش ہے ) تو میں آپ کو کھانے پینے کے پاس بٹھا دیتا ہوں ۔ انہوں نے کہا: تیرے پاس کھانا پینا ہے ؟ پس وہ اندر آ گئے ، میں نے ثرید ، گوشت اور نبیذ پیش کی ۔ انہوں نے خود بھی کھایا پیا اور مجھے بھی اتنا مجبور کیا کہ میں بھی کھانے پینے لگ گیا ، حالانکہ میں صبح سے ڈر رہا تھا ۔ پھر انہوں نے کہا : سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تم کھاؤ اور پیو (سحری کھانے کے بارے میں) اوپر اٹھنے والی روشنی تم کو بے چین نہ کرنے پائے ، اس کے باوجود تم کھاتے پتیے رہا کرو ، حتی کہ سر خ روشنی (افق میں) پھیل جائے ۔