حدیث نمبر: 375
- " إنكم لن تنالوا هذا الأمر بالمغالبة ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابن ادرع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں : میں ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پہرہ دے رہا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام کے لیے نکلے ، جب مجھے دیکھا تو میرا ہاتھ بھی پکڑ لیا ، پس ہم چل پڑے اور ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو نماز میں بآواز بلند تلاوت کر رہا تھا ۔ اسے دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قریب ہے کہ یہ ریاکاری کرنے والا بن جائے ۔ “ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! وہ قرآن کی بلند آواز سے تلاوت کر رہا ہے ( (بھلا اس میں کیا حرج ہے ؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ چھوڑ دیا اور فرمایا : ” تم اس دین کو غلبے کے ساتھ نہیں پا سکتے ۔ “ وہ کہتے ہیں : پھر ایک رات کو ایسا ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی ضرورت کے لیے نکلے ، جب کہ میں ہی پہرہ دے رہا تھا ، ( اسی طرح ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا ( اور ہم چل پڑے ) اور ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو نماز میں بآوز بلند قرآن کی تلاوت کر رہا تھا ۔ اب کی بار میں نے کہا: قریب ہے کہ یہ شخص ریاکاری کرنے والا بن جائے ۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (میرا رد کرتے ہوئے) فرمایا : ” ہرگز نہیں ، یہ تو بہت توبہ کرنے والا ہے ۔ “ جب میں نے دیکھا تو وہ عبداللہ ذو النجادین تھا ۔