کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: طلبہ حدیث کی فضیلت
حدیث نمبر: 359
- (مرحباً بطَالبِ العلمِ، [إن] طالبَ العِلم لتحفُّه الملائكةُ وتظلٌّه بأجنحتِها، ثمّ يركبُ بعضُهم بعضاً، حتّى يبلغُوا السَّماء الدُّنيا؛ من حبِّهم لما يَطلُب) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سرخ چادر پر ٹیک لگائے مسجد میں تشریف فرما تھے ، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور کہا: اے اللہ کے رسول ! میں حصول علم کے لیے آپ کے پاس آیا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” طالب علم کو مرحبا ، بےشک فرشتے طالب علم کو گھیر لیتے ہیں اور اس پر اپنے پروں سے سایہ کرتے ہیں اور ( کثرت تعداد کی وجہ سے ) ایک دوسرے پر سوار ہوتے ہوتے آسمان دنیا تک پہنچ جاتے ہیں ، کیونکہ وہ اس چیز سے محبت کرتے ہیں ، جس کو طالب علم حاصل کر رہا ہوتا ہے ۔ “ سیدنا صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ہم مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے مابین سفر میں ہی رہتے ہیں ، آپ ہمیں موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں فتوی دے دیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسافر کے لیے تین دن اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات ( تک مسح کرنے کی گنجائش ہے ) ۔ “
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / العلم والسنة والحديث النبوي / حدیث: 359