حدیث نمبر: 344
- (إنَّها ستكونُ فتنةٌ. فقالوا: كيف لنا يا رسول الله؟! أو كيف نصنعُ؟ قال: ترجعون إلى أمْرِكم الأوَّلِ) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جبکہ ہم فرش ( یا چٹائی ) پر بیٹھے ہوئے تھے : ”بیشک عنقریب فتنہ ہو گا ۔ “ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ! اس میں ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ چٹائی کی طرف لمبا کیا اور اس کو پکڑ لیا اور فرمایا : ” اس طرح کرنا ۔ “ پھر ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک عنقریب فتنہ ہو گا ۔ “ لیکن اکثر لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نہ سن سکے ۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگو ! تم سن نہیں رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرما رہے ہیں ؟ انہوں نے کہا: کیا فرمایا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک عنقریب فتنہ ہو گا ۔ “ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ہمارے لیے کیا حکم ہے یا ہم اس وقت کیا کریں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنے پہلے معاملے کی طرف لوٹ آنا ۔ “