کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: بدعتی لوگوں کا انجام
حدیث نمبر: 331
- (تَرِدُ عليَّ أمتي الحوض، وأنا أذود الناس عنه؛ كما يذود الرجل إبل الرجل عن إبله، قالوا: يا نبي الله! أتعرفنا؟ قال: نعم، لكم سيما ليست لأحد غيركم، تردون علي غراً محجلين من آثار الوضوء. وليصدن عني طائفة منكم، فلا يَصِلُون، فأقول: يا رب! هؤلاء من أصحابي؟! فيجيبني ملكٌ فيقول: وهل تدري ما أحدثوا بعدك؟!) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”میری امت حوض پر میرے پاس آئے گی ۔ میں کچھ لوگوں کو اس سے یوں دھتکاروں گا ، جیسے کوئی آدمی دوسرے کے اونٹوں کو اپنے اونٹوں سے دور دھتکارتا ہے ۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے نبی ! کیا آپ ہمیں پہچان لیں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ہاں ، تمہاری ایک ایسی علامت ہو گی ، جو دوسروں کی نہیں ہو گی ، تم میرے پاس اس حال میں آؤ گے کہ وضو کے اثر کی وجہ سے تمہاری پیشانی ، دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں چمکتے ہوں گے ۔ لیکن تم میں ایک گروہ کو مجھ سے روک لیا جائے گا ، وہ (مجھ تک ) نہ پہنچ پائیں گے ۔ میں کہوں گا : اے میرے رب ! یہ میرے ساتھی ہیں ؟ ایک فرشتہ مجھے جواب دے گا : اور کیا آپ جانتے ہیں کہ انہوں نے آپ کے بعد ( دین میں ) بدعتوں کو رواج دیا تھا ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / العلم والسنة والحديث النبوي / حدیث: 331
حدیث نمبر: 332
- (إنِّي لكم فرَطٌ على الحوض، فإيّاي! لا يأتينّ أحدكم فيُذَبَّ عنِّي كما يُذبُّ البعير الضال، فأقول: فيم هذا؟ فيقال: إنك لا تدري ما أحدثوا بعدك؟! فأقول: سُحْقاً) .
حافظ محفوظ احمد
زوجہ رسول سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے ان کے غلام عبداللہ بن رافع بیان کرتے ہیں ، وہ کہتی ہیں : میں لوگوں کو حوض کا تذکرہ کرتے ہوئے سنتی رہتی تھی ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس موضوع پر کوئی حدیث براہ راست نہیں سنی تھی ، ایک دن میری لونڈی میری گنگھی کر رہی تھی ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا : ”لوگو !“ ، میں نے لونڈی سے کہا: پیچھے ہٹ جاؤ ۔ اس نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو بلایا ہے نہ کہ عورتوں کو ۔ میں نے کہا: ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بلایا ہے اور ) میں بھی ان میں سے ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”میں حوض پر تم لوگوں کا پیش رو ہوں گا ۔ میری اطاعت کرتے رہنا ! کہیں ایسا نہ ہو کہ تم وہاں میرے پاس پہنچو اور تمہیں بھٹکے ہوئے اونٹ کی طرح ( مجھ سے دور ) دھتکار دیا جائے ۔ میں پوچھوں : ایسے کیوں ہو رہا ہے ؟ مجھے جواباً کہا: جائے : آپ نہیں جانتے کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد کون کون سی بدعات رائج کر دی تھیں ۔ (یہ سن کر ) میں کہوں گا : بربادی ہو ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / العلم والسنة والحديث النبوي / حدیث: 332