کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: دنیوی معاملات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے کی حیثیت
حدیث نمبر: 321
- (إذا كانَ شيءٌ من أمرِ دُنياكم؛ فأنتُم أعلمُ به، فإذا كانَ من أمر دينكم؛ فإليَّ) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ آوازیں سنیں اور پوچھا: ”یہ (آوازیں) کیسی ہیں ؟“ انہوں نے کہا: لوگ کھجوروں کی تلقیح کر رہے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اگر یہ اس کو ترک کر دیں اور تلقیح نہ کریں تو اچھا ہو گا ۔“ پس انہوں نے اس عمل کو چھوڑ دیا اور تلقیح نہ کی ، (جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ) ردی اور ناکارہ کھجوریں پیدا ہوئیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے ؟“ انہوں نے کہا: صحابہ نے آپ کے کہنے پر یہ عمل نہیں کیا تھا (جس کی وجہ سے یہ نقصان ہو گیا) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اگر تمہارا کوئی دنیوی معاملہ ہو تو تم خود اس کے بارے میں زیادہ (بہتر) جانتے ہو ، ہاں اگر دین کا معاملہ ہو تو میری طرف لایا کرو ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / العلم والسنة والحديث النبوي / حدیث: 321