کتب حدیث ›
سلسله احاديث صحيحه › ابواب
› باب: زیادہ سے زیادہ کتنے روزے رکھے جا سکتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرزندان امت کے حق میں ان سے بڑھ کر خیر خواہ ہیں
حدیث نمبر: 296
- " إنك إذا فعلت ذلك هجمت عيناك ونفهت نفسك. يعني صوم الدهر وقيام الليل ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضى اللہ عنہ کہتے ہیں : رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا : ”اے عبداللہ بن عمرو ! تو سارا زمانہ روزے رکھتا ہے اور پوری رات قیام کرتا ہے ، اگر تو نے ان اعمال کو جاری رکھا تو تیری آنکھیں دھنس جائیں گی اور تو لاغر و کمزور ہو جائے گا ۔ ( یاد رکھ کہ ) اس آدمی نے کوئی روزہ نہیں رکھا جس نے ہمیشہ روزے رکھے ۔ اس طرح کرو کہ ہر ماہ میں تین روزے رکھ لیا کرو ، یہ پورے مہینے کے روزے ہیں ۔“ میں نے کہا: مجھے اس سے زیادہ طاقت ہے ۔ آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : چلو داود علیہ السلام والے روزے رکھ لو ، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے اور جب ( دشمن سے آمنا سامنا ہو جاتا ) تو فرار اختیار نہیں کرتے تھے ۔“