کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر کھجور کے گچھے کا آپ کے پاس آنا
حدیث نمبر: 279
- (هل لك أن أريك آية؟ وعنده نخل وشجرة، فدعا رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عِذقاً منها، فأقبل إليه، وهو يسجد ويرفعُ رأسه، حتى انتهى إليه، فقام بين يديه، فقال له رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: "ارجع إلى مكانك "، فرجع إلى مكانه) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : بنو عامر قبیلے کا ایک معالج آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے محمد ! آپ عجیب و غریب باتیں کرتے ہیں ، تو کیا میں آپ کا علاج کر سکتا ہوں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی اور فرمایا : ” کیا میں تجھے کوئی (خاص) نشانی دکھاؤں ؟ آپ کے قریب کھجوروں کے اور دوسرے درخت تھے . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں کے گچھے کو بلایا ، وہ آپ کی طرف متوجہ ہوا ، سجدہ کرتے کرتے اور سر اٹھاتے اٹھاتے آپ کے پاس پہنچ گیا اور آپ کے سامنے کھڑا ہو گیا. پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنی جگہ کی طرف لوٹ جا.“ وہ لوٹ گیا . یہ علامت دیکھ کر عامری نے کہا: اللہ کی قسم ! میں آپ کو کبھی بھی نہیں جھٹلاؤں گا ۔ پھر فرمایا : اے آل بنی صعصہ ! آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) جو کہتے رہیں ، میں آپ کو کبھی نہیں جھٹلاؤں گا ۔
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الايمان والتوحيد والدين والقدر / حدیث: 279