کتب حدیث ›
سلسله احاديث صحيحه › ابواب
› باب: اپنی برتری اور دوسروں کی کمتری ثابت کرنے کے لیے خاندانی نام استعمال کرنا ممنوع ہے
حدیث نمبر: 262
- (¬1) (ما بال دَعْْوى الجاهلية؟! دَعُوها؛ فإنَّها مُنْتنةٌ) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ہم ایک غزوے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، ایک مہاجر نے ایک انصاری کے سرین پر ہاتھ یا لات ماری ۔ انصاری نے ( خاندانی غیرت و حمیت کا مسئلہ سمجھ کر ) انصار کو یوں پکارا : او انصاریو ! اور مقابلے میں مہاجر نے کہا: او مہاجرو ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( سن کر ) فرمایا : ”یہ جاہلیت کی پکاریں کیسے ؟“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ایک مہاجر نے ایک انصاری کو چھیڑا ہے ، ( اس کی وجہ سے یہ للکاریں شروع ہو گئیں ) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ان ( نسبتوں ) کو ترک کر دو ، یہ گندی ہیں ۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو انصار کی تعداد زیادہ تھی ، بعد میں مہاجرین کی تعداد بھی بڑھ گئی ۔ جب عبداللہ بن ابی منافق نے یہ بات سنی تو اس نے کہا: کیا یہ لوگ اس حد تک پہنچ گئے ہیں ؟ جب ہم مدینہ کی طرف واپس جائیں گے تو ہم عزت والے ان ذلیلوں کو مدینہ سے نکال دیں گے . سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ( اے اللہ کے رسول ! ) مجھے اجازت دیجئے ، میں اس منافق کا سر قلم کر دیتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”رہنے دو ، کہیں لوگ یہ کہنا شروع نہ کر دیں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنے صحابہ کو بھی قتل کر دیتا ہے ۔“